تحفظ ختم نبوت پر بے بنیاد الزامات کی مذمت ، مولانا خسرو پاشاہ کی قیادت میں مسلمانوں کے نمائندہ وفد کی پولیس کمشنر سے ملاقات
حیدرآباد ۔ 12 ۔ اگسٹ ( شاہنواز کی رپورٹ ) شہر ورنگل میں قادیانیوں کی طرف سے ہنمکنڈہ پولیس اسٹیشن میں مجلس تحفظ ختم نبوت ورنگل اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف بے بنیاد الزامات لگاکر شکایت درج کرائی گئی تھی جس پر مسلمانان ورنگل نے کثیر تعداد میں سخت احتجاج کیا اور اس شرانگیزی کی سخت مذمت کی ۔ پولیس اور حکومت سے پرزور مطالبہ اور گزارش کی گئی کہ فتنہ قادیانیت کے شرپسند عناصر کی سرگرمیوں پر روک لگائی جائے جو یہاں کی پرامن فضاء کو مکدر کرنا چاہتے ہیں ۔ اس تعلق سے 12 اگسٹ 11 بجے دن مسلمانوں کے نمائندہ وفد نے جو تمام مسالک پر مشتمل ہے ۔ جناب سید افضل بیابانی خسرو پاشاہ صدر ملت رابطہ کمیٹی کی نگرانی میں کمشنر آف پولیس ڈاکٹر ترون جوشی سے ملاقات کی اوران کو فتنہ قادیانیت اور اس کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کیں ۔ تفصیلات سے آگہی کے بعد کمشنر پولیس نے اس بات کا تیقن دیا کہ یہ کیس بے بنیاد اور بے اہم باتوں پر مشتمل ہے اور تحفظ ختم نبوت اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا کوئی امکان ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے اپنے ماتحتوں کو ان شرپسند عناصر کی تحقیق اور ان کی سرکوبی و سرزنش کرنے کی ہدایت دی ۔ سی پی ڈاکٹر ترون جوشی نے نمائندہ سیاست شاہنواز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شہر حیدرآباد میں جس طرح کی گنگا جمنی تہذیب برقرار ہے اسی طرح ورنگل میں بھی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ازدواجی زندگی کے مسائل اور دیگر جو بھی مسائل ہو اس کو قانون کے دارئہ میں رکھ کر مسئلہ کو حل کریں گے ۔ ورنگل کی گنگاجمنی تہذیب کی تعریف کی اور مستقبل میں نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ۔ اس موقعہ پر صدر ملت رابطہ کمیٹی جناب خسرو پاشاہ کے علاوہ معتمد مولانا عتیق الرحمن اسعدی شریک معتمد مفتی محمد منہاج احمد قیومی ، سرپرست ڈاکٹر انیس صدیقی لیگل کمیٹی سے مدثر احمد ایڈوکیٹ ، ابوبکر ایڈوکیٹ ، مذکر احمد ایڈوکیٹ ، سیاسی نمائندہ مسعود ڈپٹی میئر فرقان کارپوریٹر ، اراکین عبدالقہاز ، تحفظ ختم نبوت ورنگل کے صدر مولانا ایوب قاسمی و دیگر موجود تھے ۔
