بورڈ تماشائی ، سابق ضلع صدر وقف کمیٹی محمد امجد خاں کی شدید تنقید
حیدرآباد۔ سابق صدر وقف بورڈ کمیٹی ورنگل محمد امجد خاں نے ریاست تلنگانہ وقف بورڈ کی نا اہلی اور کوتاہی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کی لاپرواہی کے باعث ضلع ورنگل کی کئی قیمتی جائیدادوں پر نا صرف ناجائز قبضہ جات ہوچکے ہیں بلکہ ان کو بعض شر پسند عناصر نے کوڑیوں کے مول فروخت کرڈالا۔محمد امجد خان نے کہا کہ وہ سابق میں ان ناجائز قبضہ جات پر بورڈ کی توجہ مبذول کروائی تھی لیکن بورڈ کی جانب سے قابضین کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں گئی اور انہوں نے صدرنشین بورڈ بلکہ سی ای او بورڈ کو کئی یادواشتیں پیش کیں لیکن ان کی سعی لاحاصل رہی۔اسٹیشن گھن پور کے علاقہ میں 12 ایکرقیمتی وقف اراضی کو نا جائز قابضین نے ہڑپ لیا اور بورڈ کی توجہ دہانی کے باوجود کسی بھی قسم کی کاروائی قابضین کے خلاف نہیں کی گئی۔اسی طرح ہنمکنڈہ میں کئی ایکر قیمتی اراضیات پر بھی ناجائز قبضہ جات ہوچکے ہیںلیکن بورڈ ان قیمتی اراضیات کو بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور کوئی بھی جرا تمند اقدام اٹھانے سے قاصر تھا۔ورنگل کے علاقہ صوبہ داری میں کئی وقف بورڈ کی ملگیوں کو لیز پر دیا گیا۔لیکن مالکین غیر قانونی طور پر ان ملگیوں کو دوسرے افراد کے نام منتقل کردئے ہیں تاکہ ان کو خطیر کرایہ جات وصول ہوں۔ کئی وقف جائیداووں کے کرایوں کی وصولی میں کوتاہی برتی جارہی ہے جس کے باعث وقف بورڈ کو ایک خطیر رقم سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔انہوں نے صدر نشین وقف بورڈ سے اپیل کی کہ وہ اب بھی ہوش کے ناخن لیں اس سے پہلے کہ مزید قیمتی جائیدادوں سے وقف بورڈ کو ہاتھ دھونا نہ پڑے۔