ورنگل کارپوریشن میں 10 فیصد سے زائد پوسٹ گریجویٹ امیدوار میدان میں

   

حیدرآباد۔ مجالس مقامی کے انتخابات میں عام طور پر امیدواروں کی قابلیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں لیکن گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 10فیصد سے زائد امیدوار پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ 30اپریل کو ریاست میں 2 کارپوریشنوں اور 5 میونسپلٹیز کے انتخابات مقرر ہیں۔ ورنگل میونسپل کارپوریشن کے جملہ 500 امیدواروں میں 10 فیصد کے تعلیم یافتہ ہونے پر عوام میں مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر پوسٹ گریجویٹ امیدواروں کی عمر 40 سال سے کم ہیں اور چند ایک ایسے ہیں جن کی عمر 50 سال سے زائد ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان امیدواروں کے انتخابی میدان میں اُترنے سے مقابلہ دلچسپ ہوچکا ہے۔ کانگریس ، ٹی آر ایس ، بی جے پی، عام آدمی پارٹی، فارورڈ بلاک، سی پی آئی اور جنا سینا کے علاوہ آزاد امیدواروں میں تعلیم یافتہ موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آزاد امیدواروں میں 22 قابلیت کے اعتبار سے پوسٹ گریجویٹ ہیں اُن میں سے بعض نے پی ایچ ڈی کی تکمیل کی ہے۔ پوسٹ گریجویشن میں زیادہ تر ایم فارمیسی، ایم اے انگلش، ایم ایس سی، ایم کام، ایل ایل بی، ایم بی اے، اور ایم اے سوشیل ورک کی ڈگری رکھتے ہیں۔ گریٹر ورنگل کے رائے دہندوں کیلئے اس مرتبہ مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔ گریجویٹس کے علاوہ کئی بزنس مین، خانگی ملازمین، گھریلو خواتین، خانگی ٹیچرس اور حتیٰ کہ ناخواندہ افراد بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ ورنگل کارپوریشن کی 66 نشستوں کیلئے انتخابی مہم عروج پر ہے۔ ڈی سجاتا جو وارڈ (1) محفوظ حلقہ سے امیدوار ہیں اُن کی قابلیت ایم فارمیسی ہے اور وہ کانگریس کی امیدوار ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔