نئی دہلی : کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اگر کانگریس زیر قیادت انڈیا اتحاد لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد کو شکست دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وزارت عظمی کیلئے راہول گاندھی ان کی پسند ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کرنا چاہئے تھا ۔ یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ پرینکا گاندھی اپنے خاندانی گڑھ سمجھے جانے والے حلقہ رائے بریلی سے مقابلہ کرینگی جہاں سے سونیا گاندھی لگاتار پانچ مرتبہ منتخب ہوئی تھیں۔ اس کے بعد وہ راجیہ سبھا کیلئے منتخب ہوگئی ہیں۔ تاہم پرینکا گاندھی نے انتخابی مقابلہ سے گریز کیا اور ان کے بھائی راہول گاندھی نے رائے بریلی سے مقابلہ کیا جبکہ پرینکا گاندھی نے ان کی انتخابی مہم سنبھالی ۔ ایک ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ راہول گاندھی وزارت عظمی کیلئے ایک اچھا انتخاب ہوسکتے ہیں۔ انہوںن یک ہا کہ راہول گاندھی نے دو مرتبہ بھارت جوڑو یاترا منظم کی ۔ انہوں نے انتخابی مہم میں شدت سے مہم چلائی ۔ حلیف جماعتوں کے ساتھ بھی مہم میں حصہ لیا اور اس دوران انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو راست تنقیدوں کا نشانہ بھی بنایا ۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ راہول گاندھی وزارت عظمی کیلئے میری پسند ہیں۔ وہ میری پسند ہیں اور نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ ملک کے طول و عرض کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ ملکارجن کھرگے نے ماضی میں انڈیا اتحاد کے وزارت عظمی امیدوار کے تعلق سے سوالات پر راست جواب دینے سے گریز کیا تھا اور کئی بار کہا تھا کہ موقع آنے پر تمام حلیف جماعتیں مشترکہ طور پر مشاورت کے ذریعہ فیصلہ کرینگی ۔ کئی گوشوں کی جانب سے راہول گاندھی کو وزارت عظمی کا حقیقی معنوں میں اتفاق رائے امیدوار بھی سمجھا جا رہا ہے ۔ گذشتہ مہینے ملکارجن کھرگے سے جب اس تعلق سے سوال ہوا تو انہوں نے کہا تھا کہ انڈیا اتحاد نے متحدہ طور پر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ اتحاد فیصلہ کریگا کہ وزیر اعظم کون ہوگا ۔ انڈیا اتحاد میں شامل عام آدمی پارٹی سربراہ و چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے بھی گذشتہ ہفتے اس تعلق سے راست جواب دینے سے گریز کیا تھا اور میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا بلاک کے قائدین انتخابات کے بعد فیصلہ کرینگے کہ اتحاد کا لیڈر کون ہوگا ۔ گذشتہ ہفتے مسٹر کھرگے نے وزارت عظمی سے متعلق سوال پر جواب دینے سے گریز کیا تھا اور کہا تاھ کہ یہ سوال در اصل یہ پوچھنے کے مترادف ہے کہ کون بنے گا کروڑ پتی ۔