وزارت فینانس جی ایس ٹی شرحوں میں اضافہ کی مخالف

   

آئندہ ماہ کونسل کے اجلاس میں ریاستی وزرائے فینانس کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائیگا
نئی دہلی 29 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) جی ایس ٹی کونسل کا ایک اجلاس آئندہ مہینے منعقد ہونے والا ہے تاہم وزارت فینانس غیر ۔ لازمی اشیا پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ملک گیر لاک ڈاون کی وجہ سے مالیہ وصولی میں زبردست کمی کے باوجود ٹیکس شرح میں اضافہ کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر غیر ۔ لازمی اشیا پر ٹیکس کی شرحوں میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں ان کی طلب میں مزید کمی آئے گی اور بحیثیت مجموعی معاشی بحالی متاثر ہوگی ۔ لاک ڈاون کے بعد اس بات کی کوشش کی جائیگی کہ معاشی سرگرمیاں تمام محاذوں پر بہتر ہوجائیں ۔ صرف لازمی یا ضروری اشیا کی تجارت نہیں بلکہ تمام محاذوں پر معاشی سرگرمی کو بحال کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔ تاہم کہا گیا ہے کہ اس تعلق سے کوئی بھی قطعی فیصلہ وزیر فینانس کی قیادت والی جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں کیا جائیگا جو آئندہ مہینے منعقد ہونے والا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس اجلاس میںریاستوں کے وزرائے فینانس سے شرحوں میں اضافہ کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا جائیگا ۔

جی ایس ٹی کونسل کا 39 واں اجلاس مارچ میں منعقد ہوا تھا جس میں کئی اشیا پر ٹیکس کو معقول بنانے کی بات کہی گئی تھی ۔ ملک میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے لاک ڈاون نافذ کردیا گیا تھا ۔ پہلے وزیر اعظم نریندرمودی نے 21 دن کے لاک ڈاون کا اعلان کیا تھا اس میں پھر 3 مئی تک پھر 17 مئی تک توسیع دی گئی اور اب لاک ڈاون کا چوتھا مرحلہ 31 مئی تک چل رہا ہے ۔ اس لاک ڈاون کے نتیجہ میں جی ایس ٹی مالیہ وصولی انتہائی حد تک گھٹ گئی ہے ۔ تاہم حکومت نے کورونا وباء کو دیکھتے ہوئے مالیہ وصولی کے اعداد و شمار پر پہونچنے سے قبل جی ایس ٹی ریٹرنس داخل کرنے کی توسیع شدہ مہلت تک انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا تعین کرنے سے بھی گریز کیا ہوا ہے اور دوسرے وسائل مجتمع کرنے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے کیونکہ ابھی کوئی یہ نہیں جانتا کہ کورونا وائرس کس طرح سے ختم ہوگا اور اس کا اثر کب تک رہے گا ۔اس کے علاوہ حکومت اس وائرس کے معیشت پر ہونے والے اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لینا چاہتی ہے جس کے بعد ہی اس تعلق سے کوئی فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے ۔