وزراء سے ملاقات نہ کرنے والے کے سی آر کیا کاما ریڈی آئیں گے؟

   

Ferty9 Clinic

محمد علی شبیر کا سوال ، 9 سال تک جہد کار غدر کو پرگتی بھون میں داخلہ نہیں دیا گیا
حیدرآباد ۔28۔ اگست (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر محمد علی شبیر نے سوال کیا کہ ریاستی وزراء کو ملاقات کیلئے وقت نہ دینے والے کے سی آر عوام کی خدمت کیلئے کاما ریڈی کس طرح آئیں گے ؟ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر کے پاس ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں سے ملاقات کیلئے وقت نہیں ہے ۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت فارم ہاؤز یا پھر پرگتی بھون میں گزارتے ہیں۔ کاما ریڈی سے مقابلہ کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ مجھے شکست دینا ہے ۔ کاما ریڈی کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون ان کا حقیقی ہمدرد ہے۔ عہدہ پر رہوں یا پھر اپوزیشن میں ، ہمیشہ میں عوام کے درمیان رہا اور مجھے یقین ہے کہ عوام مجھے بھاری اکثریت سے کامیاب کریں گے اور کے سی آر کو شکست دینے کا ریکارڈ کاما ریڈی کے رائے دہندے قائم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی شاعر غدر نے علحدہ تلنگانہ کے لئے جدوجہد کی تھی لیکن گزشتہ 9 برسوں میں کے سی آر نے غدر کو پرگتی بھون میں داخلہ نہیں دیا۔ غدر کی 9 سال تک توہین کی گئی لیکن دیہانت کے بعد ہمدردی کا ڈرامہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف غدر بلکہ تلنگانہ تحریک کے جہدکاروں کو کے سی آر نے اقتدار ملتے ہی نظرانداز کردیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس اور بی جے پی متحد ہوکر کانگریس کو کمزور کرنے کی سازش کر رہے ہیں اور عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ دونوں پارٹیاں لاکھ دعویٰ کرلیں لیکن دونوں کے درمیان خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر تلنگانہ کے وسائل کو مہاراشٹرا میں خرچ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی آر ایس کے امیدواروں کی فہرست میں خواتین کو 33 فیصد نمائندگی نہ دیئے جانے پر تنقید کی اور رکن کونسل کویتا سے سوال کیا کہ وہ خاموش کیوں ہیں۔ ایس سی طبقات سے کے سی آر نے جو وعدے کئے تھے، انہیں فراموش کردیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دلتوں کے بارے میں اظہار خیال کیا کے سی آر کو کوئی حق نہیں پہنچتا۔ انہوں نے دلت چیف منسٹر کا وعدہ کیا تھا، خود چیف منسٹر بن بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کے سی آر خاندان کی حکمرانی ہے اور کرپشن اور بے قاعدگیاں عروج پر ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورہ کھمم کا حوالہ دیتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ امیت شاہ نے کانگریس کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی نے اسمبلی انتخابات کیلئے خفیہ مفاہمت کرلی ہے اور اس حقیقت سے تلنگانہ عوام اچھی طرح واقف ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس جو وعدے کرتی ہے اس پر عمل کرتی ہے۔ 2004 ء میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دیا لیکن کے سی آر خاندان نے اقتدار سنبھال لیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں بی آر ایس موجود ہے اور وہاں کے قائدین سے کانگریس حکومت کے اقدامات کے بارے میں پوچھا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کویتا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے افراد خاندان کے ساتھ کرناٹک کا دورہ کرتے ہوئے سدا رامیا حکومت کی کارکردگی سے واقفیت حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ انقلابی شاعر غدر نے 50 برسوں تک علحدہ تلنگانہ کیلئے جدوجہد کی تھی لیکن کے سی آر نے ایک دن بھی ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کویتا کی حیثیت نہیں کہ وہ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے پر تنقید کریں۔ کانگریس سے سوال کرنے سے قبل کویتا کو اپنے والد سے ایس سی ، ایس ٹی طبقات کو دھوکہ کے بارے میں سوال کرنا چاہئے ۔