ریاست میں فلاحی اسکیمات نظر انداز، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا کا الزام
حیدرآباد: سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے الزام عائد کیا کہ ریاستی وزراء عوام کی بھلائی کو فراموش کرتے ہوئے ریاست کے آئندہ چیف منسٹر کے بارے میں بیان بازی کر رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ میں چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے ٹی آر ایس پارٹی میں رسہ کشی شروع ہوچکی ہے۔ پارٹی کا ایک گوشہ کے سی آر کی برقراری کے حق میں ہے جبکہ کے ٹی آر اپنے حامیوں کی تائید سے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونا چاہتے ہیں۔ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی اور وزراء نے عوامی مسائل کو نظر انداز کردیا اور کے ٹی آر کے حق میں مہم چلا رہے ہیں۔ حکومت کی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری سے وزراء کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں عوام فلاحی اسکیمات کے فوائد سے محروم ہوچکے ہیں۔ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی کارپوریشنوں کے ذریعہ اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہوچکی ہے۔ تمام طبقات حکومت کی کارکردگی سے ناراض ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کے سی آر کے خلاف بیان بازی کے ذریعہ سیاست کر رہے ہیں۔ روزانہ کے سی آر کو گرفتار کرنے کی بات کی جاتی ہے لیکن آج تک مرکزی حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ کالیشورم پراجکٹ کی بے قاعدگیوں کے خلاف مرکز سے تحقیقات کا اعلان کرے۔ ایک سوال کے جواب میں بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاست کا چیف منسٹر کون ہوگا ، اس سے کانگریس کو کوئی مطلب نہیں ہے۔ کانگریس عوامی مسائل کی یکسوئی کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکامی پر کے سی آر کو عوام سے معذرت خواہی کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی تبدیلی ٹی آر ایس کا اندرونی معاملہ ہے اور چیف سکریٹری کے عہدہ پر آندھرا سے تعلق رکھنے والے عہدیدار کو مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ریاستی وزراء کو مشورہ دیا کہ کے ٹی آر کے حق میں بیان بازی کے بجائے عوامی مسائل کی یکسوئی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری پر توجہ دیں۔