وزراء کی پیشی کو کرپشن سے پاک بنانے چیف منسٹر کی چیف سکریٹری کو ہدایت

   

او ایس ڈی اور دیگر اسٹاف کے بارے میں رپورٹ طلب، دفاتر میں کرپشن کی شکایت پر ریونت ریڈی کی کارروائی

حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء کی پیشی میں کرپشن اور بدعنوانیوں سے متعلق شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے وزراء کے اسٹاف اور خاص طور پر آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی عہدیداروں کی کارکردگی پر رپورٹ طلب کی ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر جنگلات کونڈا سریکھا کے سابق او ایس ڈی کی جانب سے سمنٹ کمپنیوں سے بھاری رقومات کے مطالبہ کی شکایت پر حکومت نے او ایس ڈی کو عہدہ سے برطرف کردیا تھا۔ اس معاملہ میں کونڈا سریکھا اور وزیر مال پی سرینواس ریڈی کے درمیان اختلافات منظر عام پر آئے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء کی پیشی اور اسٹاف کو کرپشن اور بدعنوانیوں سے پاک بنانے کے لئے سخت اقدامات کی چیف سکریٹری رام کرشنا راؤ کو ہدایت دی ۔ چیف منسٹر نے رام کرشنا راؤ سے کہا کہ وہ وزراء کی پیشی میں او ایس ڈی ، پی ایس اور پی اے کے عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا ان عہدوں پر فائز افراد سابق میں بی آر ایس وزراء کے پاس خدمات انجام دے چکے ہیں۔ کونڈا سریکھا کے او ایس ڈی سمنت کی برخواستگی کے بعد دیگر وزراء کی پیشی میں غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیف سکریٹری سے کہا گیا ہے کہ وہ وزراء کی پیشی میں موجود اسٹاف کی قابلیت اور ان کے سابقہ ریکارڈ پر نظر رکھیں۔ حال ہی میں وزیر پنچایت راج ڈی انوسویا سیتکا کے پرسنل اسسٹنٹ سجیت ریڈی کو عہدہ سے برطرف کردیا گیا تھا، جن پر ملگ ضلع میں غیر قانونی کانکنی میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔ بی سی کمیشن کے صدرنشین جی رنجن کے پرسنل اسسٹنٹ جی سرینواس کو کاسٹ سرٹیفکٹ کی اجرائی کیلئے ایک لاکھ روپئے کی رشوت قبول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ او ایس ڈی کے عہدہ پر گزیٹیڈ رینک کے سرکاری عہدیداروں یا سینئر ریٹائرڈ عہدیداروں کا تقرر کیا جاتا رہا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد بی آر ایس اور کانگریس حکومتوں نے شرائط میں نرمی کرتے ہوئے وزراء کو اختیار دیا کہ وہ اپنی مرضی کے افراد کو او ایس ڈی کے طور پر مقرر کریں۔ تعلیمی قابلیت اور سرکاری محکمہ جات سے وابستگی کے بغیر ہی او ایس ڈی کے تقررات کئے گئے۔ کسی بھی وزیر کی پیشی میں او ایس ڈی کا رول اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور وہ محکمہ جات میں فائلس کی منظوری اور فنڈس کی اجرائی میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دفتر کو بی آر ایس دور حکومت کے کئی او ایس ڈی عہدیداروں کے خلاف شکایات موصول ہوئیں۔ ریونت ریڈی حکومت نے او ایس ڈی کے علاوہ پرسنل اسسٹنٹ اور پرسنل سکریٹریز کی کارکردگی پر بھی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف سکریٹری کی جانب سے رپورٹ کی پیشکشی کے بعد امکان ہے کہ وزراء کی پیشی میں موجود عہدیداروں کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ اعلیٰ عہدیداروں نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ او ایس ڈی کے عہدہ کیلئے سخت شرائط نافذ کی جائیں تاکہ نظم و نسق کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے۔1