ملک میں بدترین معاشی بحران ، حکومت بے بس، مرکز پر راہول گاندھی کی تنقید
نئی دہلی 18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے جمعہ کو الزام عائد کیاکہ مرکزی حکومت ملک کی معیشت کے بارے میں بالکل لاعلم و لاجواب ہوچکی ہے اور کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس نرملا سیتارامن کو چاہئے کہ وہ اس بحران کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ان (راہول گاندھی) کی پارٹی کی طرف سے 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے موقع پر جاری کردہ انتخابی منشور سے نظریات اور معلنہ طریقوں کا ’سرقہ‘ کریں۔ میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دیہی صارفیت بالعموم شہری صارفیت سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ بڑھتی ہے لیکن رواں سہ ماہی کے رجحان کے برعکس ہیں جن میں دیہاتوں میں ہونے والی خریداری ستمبر کی سہ ماہی میں گزشتہ سات سال میں سب سے کمترین سطح پر رہی۔ کانگریس کے سابق صدر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’دیہی ہندوستان اس وقت شدید بدحالی کا شکار ہے۔ معیشت ڈوب چکی ہے اور حکومت کے پاس کوئی حل یا جواب نہیں ہے کہ اس سے کس طرح نمٹا جائے‘۔ راہول گاندھی نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پرمزید لکھا کہ ’وزیراعظم اور وزیر فینانس کو چاہئے کہ وہ کانگریس کے انتخابی منشور سے نظریات چوری کرلیں جس میں اس صورتحال سے نمٹنے کی تفصیلات پہلے ہی بیان کی جاچکی تھیں‘۔
سونیا گاندھی کا دورہ ہریانہ ملتوی
نئی دہلی18 اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام )کانگریس صدر سونیا گاندھی کا ہریانہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرنے کا پروگرام کسی وجہ سے ملتوی کردیاگیا ہے ۔کانگریس پارٹی نے جمعہ کو یہاں یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ محترمہ گاندھی کے ہریانہ کے مہیندر گڑھ میں ہونے والے انتخابی جلسے کے پروگرام کو ملتوی کیاگیا ہے ۔مسٹر راہل گاندھی اس جلسے سے خطاب کریں گے ۔پارٹی کے مطابق محترمہ گاندھی کو دوپہر تین بجے ریلی سے خطاب کرنا تھا۔اسے کورکرنے کے لئے دہلی سے صحافیوں کی ٹیم بھی لے جائی جارہی تھی۔محترمہ گاندھی کی پارٹی کی کمان دوبارہ سمبھالنے کے بعد یہ پہلی انتخابی ریلی تھی۔