وزیراعظم مودی سے تھامس کپ کی فاتح ٹیم کی ملاقات

   

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو ہندوستانی مینس بیڈمنٹن ٹیم کو پہلی بار تھامس کپ جیتنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کی کھیلوں کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے ۔ مودی نے ان کھلاڑیوں سے ملاقات کی جنہوں نے تھامس اور اوبر کپ کے اپنے تجربات شیئر کئے۔ ورلڈ چمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے اور سابق عالمی نمبر ایک شٹلر کدامبی سری کانت کی قیادت میں ٹیم انڈیا نے گزشتہ ہفتے تھائی لینڈ میں 14 بار کی چمپئن انڈونیشیا کو 3-0 سے شکست دے کر اپنا پہلا تھامس کپ جیتا۔ جب وزیر اعظم مودی نے ٹیم کے کپتان سری کانت سے ان کے قائدانہ انداز اور چیلنجوں، ان کی عالمی نمبر ایک رینکنگ اور تھامس کپ میں طلائی تمغہ جیتنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہاکہ ہر کوئی اچھا کر رہا تھا۔ ہمیں ایک ٹیم کے طور پراپناسب سے بہترین مظاہرہ کرنا تھا۔ دونوںہی حصولیابیاںمیرے سپنے تھے اور میں انہیں حاصل کرنے پر بہت خوش ہوں۔ مودی نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں اتنی اچھی پرفارمنس نہ ہونے کی وجہ سے تھامس کپ کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی گئی اور ملک کو ٹیم کی کامیابی کی عظمت کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔انہوں نے کہاکہ پوری قوم کی طرف سے میں آپ کو اور پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ کئی دہائیوں کے بعد ہندوستانی پرچم مضبوطی سے لہرایا گیا ہے ۔ یہ کوئی چھوٹا کارنامہ نہیں ہے ۔ اپنے آپ کو اور ٹیم کو زبردست دباؤ میں رکھنا کچھ ایسا ہے جسے میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ میں نے آپ کو فون پر مبارکباد دی لیکن اب مجھے ذاتی طور پر آپ کی تعریف کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے ۔جیت کے فوراً بعد ٹیلی فون کال کے دوران کیے گئے وعدے کے مطابق بال مٹھائی لانے کیلئے وزیر اعظم نے لکشیا سین کا شکریہ ادا کیا۔ لکشیا نے یاد کیا کہ وہ پہلے یوتھ اولمپکس جیتنے کے بعد اور اب تھامس کپ جیتنے کے بعد وزیر اعظم سے ملے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں کے بعد کھلاڑیوں کو بہت ترغیب ملتی ہے ۔ مودی نے کہا کہ پچھلے 7-8 سالوں میں ہمارے کھلاڑیوں نے نئے ریکارڈ بنائے ہیں۔
انہوں نے اولمپکس، پیرا اولمپکس اور ڈیف اولمپکس میں شاندار کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کھیلوں کے بارے میں سوچ بدل رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندوستان کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک سنہری باب کی طرح ہے۔ آپ جیسے چمپئن اور آپ کی نسل کے کھلاڑی اس کے مصنف ہیں۔ ہمیں اس رفتار کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔