وزیراعظم مودی نوٹ بندی پر اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیں

   


نوٹ بندی سے نہ تو دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی کالے دھن کو روکا گیا: کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نوٹ بندی اور اس کے نتائج اور اثرات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے بلکہ اس نے نوٹ بندی کے فیصلے کے عمل پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں میڈیا کو بتایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یہ پروپگنڈہ کر رہی ہے کہ سپریم کورٹ نے نوٹ بندی کے فیصلے کو منظوری دے دی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے نوٹ بندی کے نتائج اور اثرات کے بارے میں نہیں بلکہ اس کے عمل کے بارے میں تبصرہ کیا۔ انہوں نے اسے بی جے پی کا برا پروپیگنڈہ قرار دیا اورکہا کہ کانگریس نے نوٹ بندی پر جو سوالات اٹھائے تھے آج بھی وہی سوالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پریشانی پھیلا رہی ہے اور یہ پروپگنڈہ کر رہی ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ درست تھا اور آج عدالت نے بھی اسے درست قرار دیا ہے، جبکہ فیصلے میں کہیں بھی ایسا کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اسی فیصلے کے متعلق ایک جج نے، جسے بی جے پی نوٹ بندی کے حق میں کہہ رہی ہے، نے اس فیصلے کے عمل پر سوال اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے لیا جانا چاہیے تھا۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ عدالت نے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ ان کی پارٹی نے بھی نوٹ بندی کو غلط سمجھا اور اب بھی اسے غلط مانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے نہ تو دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی کالے دھن کو روکا گیا۔ اس فیصلے سے چھوٹے تاجر تباہ ہوگئے ہیں اور غیر منظم شعبے کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ درست ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی کو اس مسئلہ پر پریس کانفرنس کرنا چاہئے اور نوٹ بندی کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہئے۔