نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی منگل کو امریکہ اور مصر کے پانچ روزہ دورے پر روانہ ہوں گے اور 21 جون کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں یوگا کے عالمی دن کے پروگرام کی قیادت کریں گے ۔ 20 جون سے 25 جون تک وزیر اعظم کے دو ملکی دورے کے بارے میں آج یہاں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ، خارجہ سکریٹری ونے موہن کواترا نے کہا کہ یہ وزیر اعظم کا امریکہ کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر جوزف بائیڈن اور خاتون اول ڈاکٹر جل بائیڈن کی دعوت پر وزیراعظم کا دورہ امریکہ 21 جون سے 23 جون تک ہوگا۔ یہ دورہ نیویارک سے شروع ہوگا، جہاں مودی اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں 21 جون کو یوگا کے عالمی دن کی تقریبات کی قیادت کریں گے۔ واضح رہے کہ دسمبر 2014 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 21 جون کو بین الاقوامی یوگا ڈے کے طور پر منانے کی قرارداد منظور کی تھی۔کواترا نے کہا کہ اس کے بعد وزیر اعظم 21 جون کی شام کو واشنگٹن جائیں گے ، جہاں وہ صدر بائیڈن سے ذاتی ملاقات کریں گے ۔ اگلے دن، 22 جون کو، مودی اور صدر بائیڈن کے درمیان باضابطہ دو طرفہ ملاقات ہوگی، اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں مودی کیلئے ایک رسمی استقبالیہ ہوگا۔ اسی دن ایوان نمائندگان کے اسپیکر کیون میکارتھی اور سینیٹ کے صدر چارلس شومر کی دعوت پر وزیراعظم امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ صدر بائیڈن اور خاتون اول ڈاکٹر جل بائیڈن اسی شام وزیر اعظم کے اعزاز میں ریاستی عشائیہ دیں گے ۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ 23 جون کو وزیراعظم منتخب اعلیٰ کاروباری سی ای اوز سے ملاقات کریں گے ۔ دوپہر کو امریکی نائب صدر کملا ہیرس اور سیکرٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلکن مشترکہ طور پر وزیراعظم کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے ۔ اس کے بعد مودی ہندوستانی برادری کے ارکان سے بات چیت کریں گے اور پھر مصر روانہ ہوں گے ۔وزیر اعظم اپنے امریکی دورے کے بعد مصر کا دورہ کرنے کیلئے 24-25 جون کو قاہرہ میں ہوں گے ۔ یہ دورہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی دعوت پر ہو رہا ہے جنہوں نے جنوری 2023 میں یوم جمہوریہ کی تقریبات میں بطور مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی تھی۔ یہ وزیر اعظم کا مصر کا پہلا دورہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدرالسیسی سے ملاقات کے علاوہ وزیر اعظم مصری حکومت کے سینئر معززین، مصر کی کچھ سرکردہ شخصیات کے ساتھ ساتھ مصر میں ہندوستانی برادری سے بھی بات چیت کریں گے ۔ ہندوستان اور مصر کے تعلقات قدیم تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے ساتھ ساتھ گہرے ثقافتی اور لوگوں کے درمیان تعلقات پر مبنی ہیں۔ صدرالسیسی کے سرکاری دورے میں تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ تک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے خارجہ سکریٹری نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ہمارے تعلقات میں ایک سنگ میل ہے۔ یہ ایک بہت اہم دورہ ہے ۔ ایک ایسا دورہ جس میں امریکہ میں حقیقی اور وسیع پیمانے پر گہری دلچسپی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی پہلے غیر ملکی سیاست دان ہوں گے جنہیں امریکی کانگریس سے دو بار خطاب کرنے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹیلی کام، خلائی، دفاع اور ابھرتی ہوئی اہم ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون کیلئے دور رس اثرات کے ساتھ فیصلے کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں مشترکہ صنعتی پیداوار کے امکانات پر بات چیت کی جائے گی تاکہ میک ان انڈیا اور خود کفیل ہندوستان کو مضبوط کیا جا سکے ۔وزیر اعظم مودی کے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ میں سیکورٹی خطرات اور علیحدگی پسند گروپوں کی طرف سے احتجاج کی دھمکیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ متعلقہ ایجنسیاں اس سلسلے میں اپنا کام کر رہی ہیں۔