وزیراعظم مودی کی چیف جسٹس کے گھر پر گنیش پوجا میں شرکت

,

   

وکلا اور سیاستدانوں کے تبصرے‘ انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان ایک فاصلہ ضروری:پرشانت بھوشن

نئی دہلی :وزیر اعظم نریندر مودی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی رہائش پر منعقد گنپتی پوجا میں شرکت کی ہے۔کل شام ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ وزیر اعظم کا استقبال کرتے ہوئے اور بعد میں ایک ساتھ پوجا کرتے ہوئے نظر آ تے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے اس ویڈیو کو خود سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور مراٹھی میں لکھا کہ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی رہائش پر گنیش پوجا میں شامل ہوا۔ اس پر متعدد سوالات اٹھ رہے ہیں اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے بھی اس پر تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کے لیے ضابطہ اخلاق ہے۔ ان کی جانب سے ایسا کوئی کام یا کوتاہی کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے جو اس کے اعلیٰ عہدے اور اس عہدے کے عوامی احترام سے متصادم ہو۔انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے حیران ہوں کہ سی جے آئی چندرچوڑ نے مودی کو ذاتی ملاقات کے لیے اپنی رہائش گاہ آنے کی اجازت دی۔عدلیہ کا کام انتظامیہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حکومت آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرے۔ اس لیے انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان ایک فاصلہ ہونا ضروری ہے۔اس ملاقات پر معروف وکیل اندرا جے سنگھ نے بھی تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ چیف جسٹس نے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی علیحدگی یعنی سیپریشن آف پاورس کے نظریہ سے سمجھوتہ کیا ہے جس کی وجہ سے چیف جسٹس پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو عوامی سطح پر اس کی مذمت کرنی چاہیے کیونکہ اس سے چیف جسٹس کی آزادی متاثر ہوئی ہے۔وہیں شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ گنپتی کا تہوار چل رہا ہے، لوگ ایک دوسرے کے گھر جا رہے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ وزیر اعظم اب تک کتنے گھروں کا دورہ کر چکے ہیں لیکن وزیر اعظم چیف جسٹس کے گھر گئے اور انہوں نے آرتی کی۔ اگر آئین کا محافظ سیاستدانوں سے ملاقات کرتا ہے تو اس سے لوگوں کے ذہنوں میں شک پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارا مہاراشٹر کا معاملہ، سی جے آئی چندرچوڑ کے سامنے زیر سماعت ہے، اس لیے ہمیں شک ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا یا نہیںکیونکہ وزیر اعظم اس معاملے میں دوسرے فریق ہیں۔ چیف جسٹس کو اس سے خود کو الگ کرنا ہوگا کیونکہ اس کے دوسرے فریق کے ساتھ تعلقات کیس میں صاف نظر آتے ہیں۔بار کونسل آف انڈیا کے صدر اور حال ہی میں بی جے پی سے راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے منن مشرا نے سنجے راؤت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان بہتر تال میل کو سراہنے کے بجائے اس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ بی جے پی اور حکومت پر کھل کر تنقید کرنے والے صحافی اشوک وانکھیڑے نے اس ملاقات پر سنجیدہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔فی الحال یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا جسٹس چندرچوڑ نے وزیر اعظم مودی یا دیگر کو پوجا کے لیے مدعو کیا تھا؟ یا وزیر اعظم خود سے ہی پوجا میں شرکت کیلئے پہنچ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی کو ذاتی اعتقاد سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن انتظامیہ اور عدلیہ کے اس امتزاج سے کچھ سوالات اٹھنا فطری ہے۔