وزیراعظم کا اظہار تشکر ، فرصت کے وقت دستور ہند کے مطالعہ کا راہول گاندھی کا مشورہ
نئی دہلی ۔ 26جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کے دن صدر مالدیپ اور وزیراعظم سری لنکا سے اظہار تشکر کیا ۔ جنہوںنے یوم جمہوریہ ہند کے موقع پر اپنی مبارکباد اُن کو پیش کرتے ہوئے اپنے اپنے ملک سے ہندوستان کی گہری دوستی کی تعریف کی تھی ۔ انہوں نے ان دونوں ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں جوابی مبارکباد دی ۔ انہوں نے وزیراعظم سری لنکا مہندا راجہ پکسا کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس موقع پر ہندوستانی سفارت خانہ برائے کولمبو کے تہذیبی پروگرام میں شرکت کی ۔ دریں اثناء 71ویں یوم جمہوریہ تقریب کے موقع پر اتوار کے دن سابق صدر کانگریس راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو دستور ہند کا ایک نسخہ روانہ کرتے ہوئے اُن پر طنزیہ انداز میں مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ بھی فرصت ملیں اور آپ ملک کو تقسیم کرنے میں مصروف نہ ہوں تو برائے کرم دستور ہند کا مطالعہ فرمائیں ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی اُن کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ پرینکا گاندھی وڈرا کے پیغام مبارکباد میں کہا گیا ہے کہ محترم وزیراعظم دستور ہند آپ کے عنقریب مطالعہ کیلئے آپ کو روانہ کیا گیا ہے ، آپ کو ملک کو تقسیم کرنے سے جب بھی فرصت ملیں اس کا مطالعہ فرمائیں ۔ سینئر کانگریس قائد و سابق صدر راہول گاندھی نے جو پرینکا گاندھی کے بھائی بھی ہیں وزیراعظم مودی کو یوم جمہوریہ کے موقع پر دستور ہند کی ایک نقل کا تحفہ بھی روانہ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ وزیراعظم مقننہ کے ایک رکن ہیں اور انہیں کسی بھی قسم کے فرق و امتیاز کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ دستور ہند میں سب کے ساتھ مساوی سلوک کا تیقن دیا گیا ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہم اسی کی بنیاد پر دستوری قوانین مدون کرتے ہیں چونکہ ہمیں اس سلسلہ میں کسی کے ساتھ فرق و امتیاز کا رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔اس لئے ہمیں بھی ایسے قوانین بنانے چاہیئے جس کی وجہ سے ہمارے اتحاد کی اور دستور ہند کی اقدار کی حفاظت ہوسکے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے انتہائی دکھی ہیں کیونکہ وزیراعظم نے اُن پر گہری سازش کرنے اور عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ہندوستان کو دستور کے مطابق نہیں بلکہ علاقہ واریت اور لسانی بنیادوں پر پھوٹ کا شکار بنانا چاہتے ہیں ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ پورے ملک میں خوف اور دہشت کا ماحول بن گیا ہے اور ہر شخص کو اپنے تحفظ کی فکر ہے اس لئے وہ مجبوراً دستور ہند وزیراعظم کو روانہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عام آدمی یقین رکھتا ہے کہ دستور ی اقدار کا وزیراعظم کی جانب سے تحفظ کیا جائے گا اور انہیں یقین ہے کہ دستور وزیراعظم کے ہاتھوں محفوظ رہے گا ۔ راہول گاندھی نے اس سلسلہ میں کہا کہ دستوری اقدار وہی ہیں جو ہندو دھرم کا اٹوٹ حصہ ہیں ۔ ہندو دھرم سے زیادہ روادار کوئی دھرم انہوں نے اپنے ملک میں نہیں دیکھا ہے ۔
وزیراعظم ہر یوم آزادی اور یوم جمہوریہ پر بھگوا رنگ کی پگڑی پہنتے ہیں
نئی دہلی ۔26جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) یوم جمہوریہ کے دن اور یوم آزادی تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی کو بھگوا رنگ کی پگڑی باندھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔ 71ویں یوم جمہوریہ تقریب میں بھی انہوں نے اس روایت سے انحراف نہیں کیا ۔ کانگریس نے کہا کہ حالانکہ ہندوستان مختلف مذاہب ، عقائد اور طرز زندگی رکھنے والے افراد کا ملک ہے لیکن وزیراعظم کی پگڑی کا رنگ 2017ء سے اب تک نہیں بدلا ۔ انہوں نے کبھی بھی دوسرے کسی رنگ کی پگڑی استعمال نہیں کی ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک کی رنگارنگی کو پسند نہیں کرتے ۔
