تلنگانہ سے ناانصافی پر برہمی، وعدوں کی تکمیل میں ناکام ، کانگریس اور بی جے پی میں ملی بھگت کا الزام
حیدرآباد ۔7۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ کی بی آر ایس حکومت نے کل 8 جولائی کو وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ ورنگل کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت اور پارٹی کی جانب سے وزیراعظم کی تقاریب میں کوئی نمائندگی نہیں رہے گی۔ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی اور بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے تلنگانہ کے ساتھ مرکز کے ناانصافی کے رویہ کی شکایت کی اور کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا ہے۔ ریاستی وزراء جگدیش ریڈی اور ستیہ وتی راتھوڑ کے ہمراہ وزیراعظم کو نشانہ بناتے ہوئے کے ٹی آر نے سوال کیا کہ تلنگانہ سے ناانصافی کرنے کے بعد کیا صورت لے کر وزیراعظم تلنگانہ کا دورہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ سے کئے گئے وعدوں میں سے ایک کی بھی تکمیل نہیں کی گئی ۔ گجرات میں 20 ہزار کروڑ سے ریلوے کوچ فیکٹری قائم کی گئی جبکہ تلنگانہ کے لئے محض 521 کروڑ فنڈس جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی تلنگانہ کے بارے میں مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے ہفتہ کے دن دورہ تلنگانہ کا بی آر ایس بائیکاٹ کرے گی ۔ انہوں نے گریجن یونیورسٹی اور بیارم اسٹیل پلانٹ جیسے وعدوں کی عدم تکمیل کے لئے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی پر تنقید کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ ریونت ریڈی کبھی بھی وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر تنقید سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی بھون میں گوڈسے کے وارث داخل ہوچکے ہیں۔ ریونت ریڈی کانگریس میں رہتے ہوئے آر ایس ایس کے نظریات کے حامی ہیں۔ ان کا آر ایس ایس کا گہرا تعلق ہے ۔ اراضیات کا کاروبار کرنے والے دھرانی پورٹل پر تنقید کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہر الیکشن میں کانگریس اور بی جے پی نے مل کر کام کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے دیگر ریاستوں میں بی آر ایس کو عوامی تائید حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی دور حکومت میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ملک کے قرضہ جات میں اضافہ ہوا ہے ۔ راہول گاندھی کی بی آر ایس پر تنقیدوں پر عوام بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ راہول گاندھی کس حیثیت سے تلنگانہ میں پنشن اسکیم کا اعلان کر رہے ہیں۔ کانگریس پارٹی میں راہول گاندھی کا کیا عہدہ ہے ؟ ایک سوال کے جواب میں کے ٹی آر نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر بی آر ایس نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ چیف منسٹر اس سلسلہ میں ماہرین سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد چیف منسٹر ماہرین اور دانشوروں سے یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر رائے طلب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی اور کانگریس کی لاکھ کوششوں کے باوجود عوام بی آر ایس کی تائید کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014 ء میں وزیراعظم کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پہلے دن سے نریندر مودی تلنگانہ کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کے بجائے کوچ رپیر فیکٹری قائم کی جارہی ہے ۔ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کی کوششیں تلنگانہ میں کامیاب نہیں ہوں گی۔ کے ٹی آر نے ریونت ریڈی کو چیلنج کیا کہ دھرانی پورٹل میں بے قاعدگیوں کا ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کو شکست دینے کیلئے کانگریس اور بی جے پی میں مفاہمت ہوچکی ہے۔ تلنگانہ کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی اور کانگریس نے مل کر کام کیا ۔ر