وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا

,

   

۔342 رکنی ایوان زیریں میں پاکستان تحریک انصاف کو 178 ووٹس حاصل ہوئے
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے بائیکاٹ کے بعد عمران خان کی آسان جیت
پاکستان میں غیریقینی سیاسی صورتحال کا خاتمہ ، 1993ء میں نواز شریف نے بھی اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تھا

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خاں نے ہفتہ کو قومی اسمبلی میں بالآخر اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا اور اس طرح ملک میں غیریقینی کیفیت کا خاتمہ ہوگیا۔ سینیٹ انتخابات میں کانٹے کے مقابلے میں ملک کے وزیر مالیات کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اور اس طرح عمران خاں کی حکومت کے سچا ہونے کو مزید استحکام حاصل ہوگیا۔ پارلیمنٹ کے 342 رکنی ایوان زیریں میں عمران خاں کو 178 ووٹس حاصل ہوئے جس کیلئے صدر عارف علوی کی ہدایت پر ایک خصوصی اجلاس ہوا۔ عمران خاں کو اکثریت حاصل کرنے کیلئے 172 ووٹس کی ضرورت تھی۔ فلور ٹسٹ بغیر کسی اپوزیشن کے منعقد ہوا کیونکہ پاکستان ڈیموکریٹک موؤمنٹ(PDM) جو 11 پارٹیوں کا اتحاد ہے، نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا اور اس طرح عمران خاں کیلئے درکار ووٹس حاصل کرنا آسان ہوگیا۔ اسی دوران پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں ایک سنگل پوائنٹ قرارداد بھی پیش کی جس کے مطابق ایوان میں عمران خاں کی حکومت پر اعتماد ظاہر کیا گیا جیسا کہ ملک کے دستور کی شق (7) دفعہ 91 میں طمانیت دی گئی ہے۔ ایوان کے اسپیکر اسد قیصر نے نتائج کا اعلان کیا اور کہا کہ عمران خاں نے دو سال قبل 176 ووٹس حاصل کئے تھے لیکن اس بار انہیں 178 ووٹس حاصل ہوئے۔ قرارداد کے حق میں 178 ارکان نے ووٹ دیئے اور اس طرح قرارداد منظور کرلی گئی۔ اس طرح عمران خاں کو ایک بار پھر ایوان میں اکثریت حاصل ہوگئی اور یہ بات طئے ہوگئی کہ ایوان کی اکثریت انہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم تسلیم کرتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ 68 سالہ کرکٹر سے سیاست داں بننے والے عمران خاں نے اپنے وزیر مالیات عبدالحفیظ شیخ کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں منعقدہ سینیٹ الیکشن میں ملک کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں چہارشنبہ کے روز شکست کے بعد خود بھی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ عبدالحفیظ شیخ کی شکست کے بعد اپوزیشن نے عمران خاں کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ حکمراں جماعت کی حلیف جماعتوں میں متحدہ قومی موؤمنٹ (MQM)، پاکستان مسلم لیگ کیو (پی ایم ایل کیو) سے 5 اور بلوچستان عوامی پارٹی سے 5، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے 3 ، اے ایم ایل سے ایک اور جے ڈبلیو پی سے بھی ایک شامل ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں عمران خاں ایسے دوسرے وزیراعظم ہیں جنہوں نے رضاکارانہ اعتماد کے ووٹ کے لئے قومی اسمبلی کا رخ کیا۔ 1993ء میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ سے رضاکارانہ اعتماد کا ووٹ اُس وقت حاصل کیا تھا جب سپریم کورٹ نے ان کے دوبارہ وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی تھی۔ ایک کابینی رکن کے مطابق حکمراں اتحاد کے 175 قانون سازوں نے وزیراعظم کی رہائش گاہ پر پارلیمانی پارٹی میٹنگ میں شرکت کی تھی۔