نئی دہلی ، 13 فروری (یو این آئی) وزیراعظم نریندر مودی 14 فروری کو آسام کے دورے پر رہیں گے ۔ جہاں وہ شمال مشرق کی پہلی ایمرجنسی لینڈنگ سہولت میں فضائی نمائش کا مشاہدہ کریں گے اور 5,450 کروڑ روپے سے زیادہ کے بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبوں کا افتتاح کریں گے۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وزیرِاعظم تقریباً صبح ساڑھے دس بجے ڈبروگڑھ کے موران بائی پاس پر واقع ایمرجنسی لینڈنگ سہولت پہنچیں گے جہاں لڑاکا طیاروں، ٹرانسپورٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی فضائی نمائش پیش کی جائے گی۔ یہ شمال مشرق کی پہلی ایسی سہولت ہے جسے ہندوستانی فضائیہ کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں فوجی اور شہری دونوں طرح کے طیاروں کی لینڈنگ اور ٹیک آف ممکن ہو سکے۔ ریلیز میں اسے خطے کے لیے نہایت اہم اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دوہرے استعمال کا یہ بنیادی ڈھانچہ قدرتی آفات اور اسٹریٹیجک ضروریات کے دوران بچاؤ اور راحتی کارروائیوں میں تیزی لائے گا۔ یہ سہولت 40 ٹن تک کے لڑاکا طیاروں اور 74 ٹن تک کے ٹرانسپورٹ طیاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوپہر تقریباً ایک بجے وزیرِاعظم، کمار بھاسکر ورما سیتو کا دورہ کریں گے جو برہم پتر پر تقریباً 3,030 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ چھ لین پر مشتمل پل گوہاٹی کو شمالی گوہاٹی سے جوڑتا ہے ۔ اس پل سے گوہاٹی اور شمالی گوہاٹی کے درمیان سفر میں لگنے والا وقت تقریباً سات منٹ رہ جائے گا۔ زلزلے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں بیس آئیسولیشن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے اور پل کی نگرانی کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ بعد ازاں دوپہر تقریباً 1:30 بجے وزیرِاعظم گوہاٹی میں مختلف منصوبوں کا آغاز کریں گے۔
ان میں کامروپ ضلع کے امین گاؤں میں شمال مشرقی خطے کے لیے نیشنل ڈیٹا سینٹر بھی شامل ہے ۔ جدید ڈیٹا سینٹر سرکاری محکموں کی اہم ڈیجیٹل ایپلی کیشنز کی میزبانی کرے گا اور دیگر قومی ڈیٹا سینٹروں کے لیے ڈیزاسٹر ریکوری سینٹر کے طور پر بھی کام کرے گا، جس سے ڈیجیٹل انڈیا وژن کو تقویت ملے گی۔
وزیرِاعظم اس موقع پر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ گوہاٹی کا بھی افتتاح کریں گے ، جس سے خطے میں اعلیٰ اور مینجمنٹ پر مبنی تعلیم کو فروغ ملے گا۔
دورے کے دوران وزیرِاعظم پی ایم ای-بس سیوا اسکیم کے تحت چار شہروں-گوہاٹی (100 بسیں)، ناگپور (50)، بھاؤ نگر (50) اور چندی گڑھ (25)-میں 225 الیکٹرک بسوں کو جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے ۔ اس اقدام سے 50 لاکھ سے زائد شہریوں کو صاف، سستی اور قابلِ اعتماد عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولت ملنے کی امید ہے ، جس سے شہری نقل و حمل اور معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔