وزیراعظم کا ’’جئے بجرنگ بلی‘‘ نعرہ بھی کرناٹک میں ناکام

   

مسلم تحفظات کی برخاستگی، برقعہ پر پابندی، فلم دی کیرالا اسٹوری بھی بی جے پی کو کامیاب نہیں بناسکی

حیدرآباد ۔ 13 مئی (سیاست نیوز) کرناٹک انتخابات میں وزیراعظم کا نعرہ ’’جئے بجرنگ بلی‘‘ بی جے پی کی ڈوبتی کشتی کو کنارے پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ کرناٹک میں دوسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے بی جے پی نے ماحول کو ہندو مسلم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، آخر میں وزیراعظم نے کانگریس پارٹی کی جانب سے بجرنگ دل پر امتناع عائد کرنے کے اعلان کو قومی مسئلہ کے طور پر پیش کیا۔ پہلے رام کو قفل ڈال کر بند کرنے پھر ہنومان جی کی توہین کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے جئے بجرنگ بلی کا نعرہ دیا۔ پہلے تعلیمی اداروں پر برقعہ پر پابندی لگائی گئی۔ چار فیصد مسلم تحفظات کو منسوخ کیا گیا۔ پھر منادر کے احاطہ میں مسلم مٹھائی اور پھول فروشوں کو کاروبار کرنے سے روکا گیا۔ ٹیپوسلطان کے خلاف زہر اگلا گیا پھر فلم دی کیرالا اسٹوری کی تشہیر کی گئی۔ بدعنوان 70 سے زائد بی جے پی ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے نئے چہروں کو ٹکٹ دیا گیا جس کے بعد بھی کرناٹک کی عوام نے بی جے پی کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کو بھاری اکثریت سے اقتدار حوالے کردیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 10 دن کے دوران 18 عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ ساتھ ہی 6 بڑے روڈ شو کئے۔ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ کرناٹک میں قیام کرتے ہوئے انتخابی حکمت تیار کی مگر وہ بھی کرناٹک میں عوامی نبض کو پہچاننے میں ناکام ہوگئے۔ عوام کو آئندہ پانچ سال کیلئے مستحکم حکومت قائم کرنے کیلئے کانگریس کو واضح اکثریت سے کامیاب بنادیا۔ عوام نے فرقہ پرستی پر سیکولرازم کو فوقیت دیتے ہوئے بی جے پی کو اپنا محاسبہ کرنے پر مجبور کردیا۔ن