وزیراعظم کے سیکولر سیول کوڈ والے بیان پر اپوزیشن برہم

,

   

بابا صاحب امبیڈکر کی توہین کے مترادف،عوام کو تقسیم کرنے والی تقریر کا الزام

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر دہلی کے لال قلعہ سے خطاب کے دوران یکساں سیول کوڈ (UCC) کو فرقہ وارانہ بتا یا اور کہا کہ ملک اب سیکولر سیول کوڈ کی ضرورت پہ جس پر اپوزیشن نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم کے بیان کو تقسیم کرنے والی تقریر قرار دیا ہے۔سیکولر سیول کوڈ پر کانگریسی رہنما وویک تنکھا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کو تقسیم کرنے والی تقریر ہے۔ سلمان خورشید نے بدعنوانی کے معاملے پر مودی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اپوزیشن پر کارروائی کی ہے وہ اپنی پارٹی کے رہنماؤں پر کب کارروائی کریں گے۔ مودی کے سیکولر سیول کوڈ والے بیان پر انہوں نے کہا آئین سب سے اوپر ہے، آئین جو اجازت دے گا وہی ہوگا۔ نیشنلسٹ کانگریس کی سپریا سولے نے اس سلسلے میں کہا کہ یہ بی جے پی نہیں این ڈی اے کی حکومت ہے اس لیے وزیراعظم مودی سیکولر سیول کوڈ کی بات کر رہے ہیں۔جئے رام رمیش نے کہا کہ مودی جی کا یہ بیان کہ ہمارے پاس اب بھی ‘فرقہ وارانہ سیول کوڈ’ ہے، ڈاکٹر امبیڈکر کی شدید توہین کے مترادف ہے جو ہندو پرسنل لا میں اصلاحات کے سب سے بڑے حامی تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آئین ساز باباصاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی لال قلعہ کی فصیل سے یہ کہہ کر سخت توہین کی۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ امبیڈکر ہندو پرسنل لا میں اصلاحات کے بڑے پیروکار تھے اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جن سنگھ نے ان کی سخت مخالفت کی تھی۔جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ غیر حیاتیاتی وزیر اعظم کی بدنیتی اور بغض کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ بات آج ان کی لال قلعہ کی تقریر میں پوری طرح سے نظر آئی۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے اپنے خطاب میں ملک میں سیکولر سول کوڈ (ایس سی سی) کی پرزور وکالت کی اور ہندوستان کو ایک ‘ترقی یافتہ ملک’ بنانے کا عہد کرتے ہوئے ‘ایک قوم، ایک الیکشن’ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک کا ایک بڑا طبقہ یہ مانتا ہے کہ ہم جس سول کوڈ کے ساتھ رہ رہے ہیں وہ دراصل فرقہ وارانہ اور امتیازی ضابطہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ملک میں اس پر سنجیدہ بحث ہو اور ہر کوئی اپنی رائے کو سامنے لائے۔