رام پنیانی
ملک میں وزیراعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن جو کچھ ہورہا ہے وہ یقیناً قابل افسوس اور قابل مذمت ہے ۔ مودی اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم اقلیت کے خلاف تشدد روز کا معمول بن گیا ہے ۔ ملک کے کسی بھی حصہ خاص کر ان ریاستوں میں جہاں زعفرانی جماعت برسر اقتدار ہے۔ مسلمانوں کے خلاف برپا کئے جارہے تشدد کی اشکال اور شدت میں اگرچہ فرقہ پایا جاتا ہے لیکن انہیں دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی شدت اختیار کر گیا ۔ ایک طرف فرقہ پرست تنظیموں کے کارکن مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رہے ہیں، وہیں وہ دوسری اقلیت یعنی عیسائیوں کو بھی نشانہ بنانے سے کوئی گریز نہیں کر رہے ہیں ۔ انہیں بھی بخشا نہیں جارہا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ عیسائیوں کے خلاف برپا کئے جانے والے پر تشدد واقعات اکثر خبروں سے غائب رہتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ عیسائی مخالف، پرتشدد واقعات پر پردے ڈال دیئے جاتے ہیں (تاکہ بیرونی ممالک ہندوستان کی شبیہہ متاثر نہ ہو) ۔ واجپائی حکومت نے تبدیلی مذہب کو مسئلہ بناکر ببانگ دہل اس پر مباحث کی وکالت کی تھی ۔ جہاں تک عیسائیوں پر فرقہ پرستوں کے حملوں کا سوال ہے ، اس کے لئے تبدیلی مذہب کا سب سے برا بہانہ بنایا گیا ۔ دعائیہ اجتماعات ، گرجا گھروں میں اجلاس اور جشن و تقاریب ایسے مواقع ہوتے ہیں جہاں تشدد برپا کیا جاتا ہے ۔ اس طرح عیسائیوں کے دعائیہ اجتماعات کو نشانہ بناکر ان کی خوشیوں کو غم میں تبدیل کردیا جاتا ہے ۔ حالیہ عرصہ کے دوران کرسمس کے موقع پر ہم سب نے دیکھا کہ ہندوتوا کے سپاہیوں نے فٹ پاتھ پر XMAS ، کرسمس کی ٹوپیاں ، ملبوسات اور کرسمس سے جڑی اشیاء فروخت کر رہے تھے ۔ فرقہ پرستوں نے سانتا کلاس کے نمونوں کو نشانہ بنایا ۔ دوسروں نے گرجا گھروں میں غنڈہ گردی کی ، انہیں تباہ و تاراج کیا اور کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے ان مقامات پر توڑ پھوڑ مچائی جہاں کرسمس کا سامان فروخت کیا جارہا ہے ۔ ان فرقہ پرستوں کے ان کارناموں کے ویڈیوز منظر عام پر آئے بلکہ ان ویڈیوز کو جان بوجھ کر خود ان لوگوں نے سوشیل میڈیا پر اپ لوڈ کیا ۔ تلوین سنگھ مزید لکھتے ہیں کہ میں نے بی جے پی کے ایک قانون ساز کو جبلپور کے ایک گرجا گھر میں داخل ہوکر ایک نابینا خاتون پر حملہ کرتے دیکھا اسے برا بھلا کہتے سنا ، بی جے پی کی لیڈر نے قوت بصارت سے محروم اس ضعیف خاتون پر الزام عائد کیا کہ وہ ہندوؤں کا مذہب تبدیل کرواکر انہیں عیسائی بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ کرسمس کے موقع پر جشن و تقاریب کو درہم برہم کرنے کے تقریباً 100 واقعات پیش آچکے ہیں اور جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے ، ان میں سے تقریباً واقعات ایسی ریاستوں میں پیش آئے ہیں جہاں بی جے پی کا اقتدار ہے ۔
خود ہما رے ملک کے گودی میڈیا نے بھی ان خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی ، اس کے برعکس عالمی میڈیا میں ان واقعات کے بارے میں خبریں اور خصوصی رپورٹس شائع اور نشر ہوئیں۔ بعض اخبارات میں یہاں تک لکھا گیا کہ ہندوستان میں عیسائیوں پر حملوں کے جواب میں دوسرے ملکوں میں مقیم ہندوؤں پر حملے کئے جاسکتے ہیں ۔ فرقہ وارانہ فسادات اور پرتشدد حملوں میں ہندوستانی ریاستوں کا جو دلچسپ پہلو ہے ، وہ ان کی خاموشی ہے اور حسن اتفاق سے اکثر واقعات بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آرہے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارے ملک میں ایک Non Biological وزیراعظم ہیں، جو اس طرح کی طاقتوں کا چہرہ سمجھے جاتے ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہندوتوا تنظیمی مختلف بہانوں سے اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کو نشانہ بنارہی تھیں۔ اس دوران وزیراعظم نے ایک چرچ کا دورہ کیا ، دعائیہ اجتماع میں شرکت کی اور کس قدر عجیب بات یہ ہے کہ ہندوتوا کے بلند قامت لیڈر کی حیثیت سے پہلے خصوصی پہچان رکھنے والے وزیراعظم عیسائیت اور عیسائیوں کے احترام اور ان کے وقار کی باتیں کر رہے تھے ۔ دوسری طرف ان کے بھگت ان کے چاہنے والے ان کے حامی سڑکوں اور گرجا گھروں میں عیسائیوں کے خلاف غنڈہ گردی کا بدترین مظاہرہ کر رہے تھے ۔ سٹیزن فار جسٹس اینڈ پیس (ڈسمبر 24 ، 2025 کی اپنی اشاعت میں) بڑی تفصیل سے یہ بتاتا ہے کہ ملک میں عیسائیوں کے خلاف تشدد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ سال بہ سال عیسائیوں کو بڑے پیمانہ نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ 2024 تک بڑھ کر 834 ہوگئے ۔ اس طرح مخالف عیسائی تشدد کے واقعات میں 2014 سے 2024 کے درمیان 500 فیصد کا اضافہ ہوا ۔ صرف 2025 میں (جنوری تا نومبر) عیسائیوں کے خلاف تشدد کے 700 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں جنہیں باضابطہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجہ میں خاندانوں ، گرجا گھروں ، اسکولوں ، اسپتالوں اور خدمات انجام دینے والے اداروں ، دلت عیسائیوں قبائلی عیسائیوں اور خواتین پر سب سے زیادہ اثر پڑا ۔ امریکہ کی ایک تنظیم نے 2025 میں مذہبی تعصب و جانبداری اور مذہب پر مبنی پرتشدد واقعات کے ضمن میں خطرناک ملکوں کی فہرست میں شامل کیا۔