فرانس کے ہم منصب سے ایران ۔ امریکہ جنگ اور آبنائے ہرمز پر بات چیت
نئی دہلی، 27 مارچ (یو این آئی) وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جی7 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں توانائی، کھاد اور غذائی تحفظ کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے درمیان عالمی نظامِ حکمرانی میں فوری اصلاحات اور زیادہ مستحکم تجارتی راہداریوں کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ڈاکٹر جے شنکر نے جمعہ کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جی7اجلاس کے دو سیشنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، امن مشن کے آپریشنس کی باقاعدہ ترسیل اور انسانی سپلائی چینز کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔جئے شنکر نے فرانس کے اپنے ہم منصب سے مشرق وسطیٰ میں ایران ۔ امریکہ ۔ اسرائیل جنگ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز تنازعہ پر تبادلہ خیال کیا۔ ایک اور سیشن میں انہوں نے عالمی سپلائی چینز پر مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے اثرات کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا، “مشرق وسطیٰ میں تنازعات سے پیدا ہوئی غیر یقینی صورتحال زیادہ مستحکم تجارتی راہداریوں اور سپلائی چینز کی ضرورت کو مزید تقویت دیتی ہے۔ وزیر خارجہ نے ’ہند۔مشرق وسطیٰ۔ یورپ اقتصادی راہداری‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یورپی یونین، یورپی فری ٹریڈ اسوسی ایشن کے رکن ممالک اور برطانیہ کے ساتھ ہندوستان کے آزادانہ تجارت کے معاہدوں نے اس منصوبے کی افادیت کو بڑھایا ہے ، اور اس اقدام کیلئے بڑے پیمانے پر حمایت اور جوش و خروش کا خیر مقدم کیا۔ وزیرخارجہ نے اجلاس کے دوران فرانس، کینیڈا، جنوبی کوریا، جاپان، برازیل، برطانیہ، جرمنی اور یوکرین کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ کئی دو طرفہ ملاقاتیں کیں۔ عالمی حکمرانی کے سیشن میں ڈاکٹر جے شنکر نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ناگزیریت، امن مشن کے آپریشنز کو منظم کرنے کی ضرورت اور انسانی سپلائی چینز کو مستحکم کرنے پر زور دیا، ساتھ ہی جاری تنازعات کے وسیع تر عالمی اثرات کو بھی اجاگر کیا۔وزیر خارجہ جی7 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے لیے جمعرات سے فرانس میں موجود ہیں۔