بہتری کے آثار ظاہر ۔ ایف ڈی آئی ،فیاکٹری کی پیداوار ، جی ایس ٹی کلکشن کا تذکرہ ۔ چدمبرم کا دعویٰ مسترد
نئی دہلی ۔11 فبروری۔( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر فینانس نرملا سیتارمن نے منگل کو کہاکہ معیشت مشکل میں نہیں ہے اور اچھے آثار دکھائی دے رہے ہیںجیسا کہ ملک پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے جاری اقدامات کو بیان کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ بیرونی راست سرمایہ کاری میں اضافہ ہورہا ہے ، فیاکٹری کی پیداوار بڑھ رہی ہے اور گزشتہ تین ماہ میں زائد از ایک لاکھ کروڑ روپئے کا جی ایس ٹی کلکشن ہوا ہے ۔ یہ سب معیشت میں بہتری کے آثار ہیں ۔ لوک سبھا میں مرکزی بجٹ پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے نرملا نے کہاکہ سات اہم عوامل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ۔ معیشت مشکل میں نہیں ہے۔ مثبت آثار کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرفینانس نے کہاکہ بیرونی زر مبادلہ کا ذخیرہ اب تک کی سب سے اونچی قدر پر ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں جوش پایا جاتا ہے ۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ترقی کے چار انجنوں پر توجہہ دے رہی ہے جن میں نجی سرمایہ کاری ، برآمدات ، خانگی اور سرکاری کھپت شامل ہیں۔ سرکاری سرمایہ کاری کے تعلق سے اُنھوں نے کہاکہ ڈسمبر میں حکومت نے نیشنل انفراسٹرکچر پائپ لائن کا اعلان کیا تھا ۔ اس میں 103 لاکھ کروڑ روپئے کا سرمایہ آئندہ چار سال (2024-25 تک ) میں ملک بھر میں انفراسٹرکچر کے فروغ کے لئے رکھا گیا ہے ۔ کھپت کو بڑھانے کے لئے حکومت نے سال 2019-20 ء کے لئے تمام نشاندہی کردہ ربیع اور خریف کی فصلوں کی اقل ترین امدادی قیمت میں اضافہ کیا ہے ۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ مالیتی خسارہ یو پی اے حکومت کے دوران زیادہ تھا جبکہ معیشت کا انتظام اہل ڈاکٹروں کے ہاتھوں میں تھا۔ وہ سابق وزیر فینانس پی چدمبرم کے گزشتہ روز کے ریمارکس کا حوالہ دے رہی تھیں جس میں آخرالذکر نے کہا تھا کہ معیشت بستر مرگ پر پڑی ہے اور اُس کا علاج نااہل ڈاکٹروں کے ذمہ ہے۔ وزیر فینانس نے چدمبرم پر جوابی تنقید میں کہا کہ اُنھیں اُن لوگوں سے کچھ نہیں سیکھنا جنھوں نے جڑواں بیالنس شیٹ بحران کے ساتھ این پی ایز (غیرکارکرد اثاثہ جات ) کا پہاڑ لگادیا ہے۔ نرملا نے کہاکہ ہندوستان کا دفاع مفلوج ہوگیا تھا اور یوپی اے دور میں معقول اسلحہ نہیں تھے ۔ انھوں نے کہا کہ چدمبرم کی بجٹ پر تنقید میں ٹھوس باتوں سے کہیں زیادہ طنز ہے ۔ ہم یقینایوپی اے کی بار بار غلطیوں کو نہیں دہرائیں گے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ یوپی اے کی جانب سے فری ٹریڈ اگریمنٹس کئے گئے جو ملک کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ موی حکومت کی کارگذاری پیش کرتے ہوئے نرملا نے کہا کہ غذائی اشیاء کے معاملے میں شرح افراط کو قابل قبول حدوں سے تجاوز کرنے نہیں دیا گیا ۔ اقتصادی ڈسپلن پوری میعاد میں برقرار رکھا گیا ۔
