وزیر اعظم مودی ‘ وزیر داخلہ امیت شاہ اور تمام چیف منسٹرس ’’غیر قانونی ‘‘ : کھرگے

,

   

لوک سبھا اور تمام اسمبلیوں کو تحلیل کردیا جائے ۔ بیالٹ پیپر پر تازہ انتخابات کا مطالبہ ۔ مودی نے جمہوریت کو تباہ کردیا ۔ کانگریس صدر کی میڈیا سے بات چیت

گلبرگہ 3 اکٹوبر ( ایجنسیز ) کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے آج مطالبہ کیا کہ ملک میں لوک سبھا اور ان تمام ریاستی اسمبلیوں کو تحلیل کردیا جائے جو 2023 کے بعد منتخب ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام انتخابات غیرقانونی ہیں اور یہاں تک کہ وزیر اعظم مودی ‘ وزیر داخلہ امیت شاہ اور تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس بھی غیرقانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیالٹ پیپر کے ذریعہ ملک بھر میں تازہ انتخابات کروائے جانے چاہئیں۔ مسٹر کھرگے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج سارا ملک غیرقانونی انتخابات پر چلایا جا رہا ہے ۔ مودی ایک غیر قانونی وزیر اعظم ہیں۔ امیت شاہ ایک غیرقانونی وزیر ہیں اور تمام ریاستوں کے چیف منسٹر جو کہیں بھی منتخب ہوئے ہیں وہ بھی غیرقانونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور تمام اسمبلیوں کو ت حلیل کردیا جانا چاہئے اور انتخابات بیالٹ پیپر پر کروائے جانے چاہئیں۔ مسٹر کھرگے نے الزام عائد کیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا بیجا استعمال کیا جا رہا ہے اور اب تو خود ان کے لوگ بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کا جو عمل ہے اس میں کئی بے قاعدگیاں ہیں اور اس سے جمہوریت متاثر ہو رہی ہی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس عمل میں کئی غلطیاں کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایس آئی آر کے عمل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتخابی عمل کا بھی بیجا استعمال ہو رہا ہے ۔ مسٹر کھرگے نے 30 ستمبر کو ہوئی انڈیا اتحاد کی میٹنگ کا تذکرہ کیا جس میں 20 جماعتوں نے شرکت کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی نے اس بات سے اتفاق کیا کہ جو ایس آئی آر چل رہا ہے وہ غیر قانونی ہے اور اس کے نتیجہ میں غریب ‘ ناخواندہ اور مزدور عوام اور خاص طور پر اقلیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک بوتھ سے 500 ووٹ حذف کردئے جائیں تو پھر کس طرح کے آزادانہ اور منصفانہ چناؤ ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ اب اپنی مرضی کے ناموں کو شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کانگریس صدر نے الزام عائد کیا کہ کئی افراد اور خاص طور پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے ارکان وارڈز ‘ پنچایت اور گاوں کے دورے کر رہے ہیں جہاں وہ ووٹ حذف کروانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے فارمس داخل کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ غلط ہے ۔ کھرگے نے یاد دہانی کروائی کہ ماضی میں پنڈت جواہر لال نہرو ‘ اندرا گاندھی ‘ لال بہادر شاستری ‘ نرسمہا راو اور راجیو گاندھی کے بشمول کسی نے بھی جمہوریت میں ایسا نہیں کیا ہے ۔ اب جس طرح سے انتخابی عمل کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اس سے ہمارے نوجوان ‘ غریب عوام ‘ دلت اور پچھڑے ہوئے طبقات متاثر ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی پر جمہوریت کو تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس صدر نے اس قانون کا تذکرہ کیا جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دوسرے الیکشن کمشنران کو اپنے فیصلوں پر قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے ۔ اس طرح کا قانون لاتے ہوئے مودی حکومت جمہوریت کو تباہ کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے چیف جسٹس آف انڈیا ‘ قائد اپوزیشن اور وزیر اعظم پر مشتمل کمیٹی چیف الیکشن کمشنران کا تقرر عمل میںلاتی تھی ۔ تاہم چیف جسٹس کو اس سے باہر کردیا گیا کیونکہ کوئی چیف جسٹس حکومت کے خیال سے اتفاق نہ کرے اور کسی دیانتدار شخص اس عہدہ پر فائز ہوجائے تو حکومت اپنی من مانی نہیں کرسکتی ۔