وزیر اعظم مودی کا آج تمام چیف منسٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس اجلاس

   

عوام میں ایک بار پھر اندیشے ۔ 2020 کے حالات سے مشابہت

حیدرآباد 25 مارچ (سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کے 27 مارچ کو ملک کی تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ اجلاس منعقد کرنے کی اطلاعات نے عوام میں دوبارہ خوف پیدا کردیا ہے۔ وزیر اعظم 27 مارچ کو شام 6:30 بجے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ذریعہ مغربی ایشیاء میں جنگی حالات کے ہندوستان پر منفی اثرات سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم کے ا س منصوبہ کے متعلق سوشل میڈیا پر خبر وائرل ہوتے ہی عوام سے مختلف خدشات کا اظہار کیا جانے لگا ہے کیونکہ گذشتہ ایک ہفتہ میں مرکز نے سرکردہ عہدیداروں کے ہمراہ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کے علاوہ کل جماعتی اجلاس کے ذریعہ صورتحال سے تمام سیاسی جماعتوں کو واقف کروایا ہے اور اب جبکہ چیف منسٹرس سے بات چیت کی توثیق ہورہی ہے تو شہریوں کے ذہنوں میں ’کورونا وائرس‘ لاک ڈاؤن کی یادیں تازہ ہونے لگی ہیں۔ کورونا لاک ڈاؤن سے قبل بھی مرکز نے محکمہ صحت کے عہدیداروں سے تبادلہ خیال اور وزیر اعظم کو تفصیلی رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد کل جماعتی اجلاس منعقد کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا تھا ۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے 22مارچ کو ’جنتا کرفیو‘ کے اعلان سے قبل تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تبادلہ خیال کیا اور اس کے بعد جنتا کرفیو کے دوران عوامی ردعمل سے متعلق دوبارہ چیف منسٹرس سے تبادلہ خیال کرکے مرکزی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا۔2020 میں لاک ڈاؤن سے قبل اجلاسوں کے طرز پر دہلی میں ہونے والے جائزہ اجلاسوں نے شہریوں کے علاوہ تجارتی اداروں اور سرکردہ کمپنیوں کے ذمہ داروں میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے حالانکہ گذشتہ یوم دہلی میں کل جماعتی اجلاس میں وزیر اعظم مودی نے شرکت نہ کرکے صورتحال کو معمول کے مطابق قرار دینے کی کوشش کی لیکن اب جبکہ 27مارچ کو شام 6:30 بجے ملک کی تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے ویڈیو کانفرنس کے فیصلہ نے ایک مرتبہ پھر بے چینی کی لہر پیدا کردی ہے۔2020میں وزرائے اعلیٰ ‘ محکمہ صحت اور کل جماعتی اجلاسوں کے بعد مرکزی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ملک میں مکمل ’لاک ڈاؤن‘ کیا جائے اور 24مارچ 2020 سے ملک بھر میں بغیر کسی تیاری کے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا گیا تھا اور 21 دن تک کے اس لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی ملک کے مختلف ریاستوں میں زائد از ایک کروڑ مزدور پیدل اپنے مواضعات تک پہنچنے مجبور ہوئے تھے۔3