قومی آفت قرار دینے اور 2ہزار کروڑ روپئے مرکزی امداد کیلئے ریاستی حکومت کا مطالبہ
ویاناڈ:وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کیرالا کے وائناڈ میں لینڈ سلائڈنگ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے کیا اور پھر عہدیداروں کے ساتھ متاثرہ مقامات کا پیدل دورہ کرتے ہوئے وایناڈ ضلع میں 30 جولائی کو لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا۔اس دوران کیرالا کے گورنر عارف محمد خان، وزیر اعلیٰ پنارائی وجین اور مرکزی وزیر سریش گوپی بھی مودی کے ساتھ تھے ۔قبل ازیں وزیر اعظم صبح تقریباً 11:10 بجے کنور بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچے اور گورنر، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے ذریعے وایناڈ کیلئے روانہ ہوئے ۔ این ڈی آر ایف کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) پیوش آنند نے لینڈ سلائیڈنگ کا خاکہ دکھا کر 30 جولائی سے 10 اگست کے درمیان بچاؤ کارروائیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ مودی اور مرکزی وزیر نے تباہ شدہ علاقوں میں تقریباً 600 میٹر تک پیدل چل کر لینڈ سلائیڈنگ کا اثر دیکھا اور تفصیلات کے بارے میں دریافت کیا۔چیف سکریٹری، ضلع کلکٹر میگھاشری اور اے ڈی جی پی نے وزیر اعظم کے سوالات کے جوابات دیئے ۔ انہوں نے محمد ہانی (16) اور لاونیا (14) سے بھی بات کی جنہوں نے اپنے خاندان کے تمام افراد کو کھو دیا۔ مودی نے ڈاکٹر موپینس میڈیکل کالج ہسپتال (ڈبلیو آئی ایم ایس) کا دورہ کیا اور وہاں زیر علاج 49 لوگوں کی حالت دیکھی۔وزیر اعظم نے چھ مریضوں سے بات چیت کی اور تسلی دی جن میں اونتیکا (8) بھی شامل ہے۔ریاستی حکومت کے اہم مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ ویاناڈ لینڈ سلائیڈز کو ایل-3 زمرے کے تحت درجہ بندی کیا جائے اور انہیں ‘قومی آفت’ قرار دیا جائے ۔ریاستی حکومت کا ایک اور مطالبہ وایناڈ میں لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے مرکزی حکومت سے 2000 کروڑ روپے کی امداد کا ہے ۔ جائزہ میٹنگ تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔بعد میں وزیر اعظم دہلی واپس ہو گئے ۔وائیناڈ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بڑی تعداد میں جانی نقصان ہوا ہے جب کہ بھاری مالی نقصان کا بھی تخمینہ کیا گیا ہے ۔ کانگریس قائد راہول گاندھی نے بھی چند دن قبل متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے ہر ممکن امداد کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے ۔