وزیر اعظم مودی کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا زبردست شور شرابا

,

   

نئی دہلی :راجیہ سبھا میں آج صدر جمہوریہ کی تقریر پر تحریک شکریہ پر بحث کا جواب دینے آئے وزیر اعظم مودی کی تقریر کے دوران خوب ہنگامہ آرائی ہوا۔ اڈانی معاملے پر جے پی سی تحقیقات کا مطالبہ کر رہی کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم مودی کی تقریر شروع ہوتے ہی ’مودی۔اڈانی بھائی بھائی‘ کا نعرہ لگانا شروع کر دیا۔ اس اچانک حملے سے پریشان وزیر اعظم مودی کو تھوڑی دیر کے لیے اپنی تقریر روکنی پڑی۔ اس کے بعد ایوان کے سربراہ نے اپوزیشن کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے، جس کے سبب تھوڑی دیر بعد وزیر اعظم مودی نے ان نعروں کے درمیان ہی اپنی تقریر مکمل کی۔جمعرات کی دوپہر جیسے ہی ایوان بالا میں وزیر اعظم مودی کی تقریر شروع ہوئی، کانگریس سمیت اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے نعرہ بازی شروع کر دی۔ اپوزیشن کے لیڈر ’مودی۔اڈانی بھائی بھائی‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے ’اڈانی پر منہ تو کھولو، کچھ تو بولو کچھ تو بولو‘ اور ’اڈانی پر جواب دو، جواب دو‘ کے زبردست نعرے لگائے۔ اپوزیشن کے اس حملے سے یکبارگی وزیر اعظم مودی گھبرا گئے اور انھیں اپنی تقریر درمیان میں ہی روکنی پڑی۔ پھر جب نعرہ بازی جاری رہی تو وزیر اعظم مودی کو اسی ہنگامہ کے درمیان ہی اپنی تقریر کرنی پڑی۔اپوزیشن کے اس زوردار حملہ سے حیران نظر آ رہے پی وزیر اعظم مودی نے خود کو سنبھالنے کے لیے جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ جتنا کیچڑ اچھالو گے، کمل اتنا ہی کھلے گا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تکلیف ان لوگوں کو ہو رہی ہے جن کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ لیکن وہ صاف کرنا چاہتے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف لڑائی کمزور نہیں پڑے گی۔ ہماری حکومت وہ حکومت نہیں ہے جو صرف منصوبے بناتی ہے بلکہ زمین پر اسے اتارتی بھی ہے۔ وزیر اعظم مودی کے ان جوابی حملوں کے باوجود ان کی تقریر کے شروع سے آخر تک ایوان میں مودی۔اڈانی بھائی بھائی کا نعرہ گونجتا رہا۔ مودی نے راجیہ سبھا میں اپنے خطاب کے آخر میں ہنگامہ اور نعرے بازی کررہے اپوزیشن اراکین پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے اپوزیشن بینچ کی طرف دیکھ کر اپنا سینہ ٹھوکا اور کہا کہ ا?ج ملک دیکھ رہا ہے کہ ایک اکیلا کتنوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔ میں ملک کیلئے جیتا ہوں، ملک کیلئے کچھ کرنے کو نکلا ہوں۔زبردست شور شرابے کے بیچ مودی کی تقریر کے فوری بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ واضح رہے کہ گوتم اڈانی معاملے کی جے پی سی جانچ کے مطالبہ کو لے کر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے جارحانہ رخ اختیار کیا ہوا ہے۔ اس معاملے پر دو دن پہلے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے بھی لوک سبھا میں زبردست حملہ کرتے ہوئے پی ایم مودی پر گوتم اڈانی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ لوک سبھا میں اپنی تقریر میں انھوں نے وزیر اعظم مودی سے براہ راست پوچھا تھا کہ اپنے کتنے غیر ملکی دوروں میں وہ اڈانی کو ساتھ لے گئے ہیں، اور اس کے بعد کتنے ممالک میں انھیں ٹھیکے ملے ہیں۔