14 دن ہوم کورنٹائن، چیف منسٹر اور عوام سے اظہار تشکر
حیدرآباد: وزیر داخلہ محمد محمود علی اور ان کے افراد خاندان کو کورونا علاج سے صحت یابی پر آج ڈسچارج کردیا گیا۔ محمد محمود علی کے علاوہ ان کے فرزند محمد اعظم علی خرم اور پوترے محمد فرقان احمد کو کورونا پازیٹیو رپورٹ کے بعد اتوار کی شب اپولو ہاسپٹل جوبلی ہلز میں شریک کیا گیا تھا۔ ماہر ڈاکٹرس کی نگرانی میں ان تینوںکا علاج کیا گیا اور وائرس کی علامات ختم ہونے پر تینوں کو ہاسپٹل سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ۔ 67 سالہ محمد محمود علی استھما کے مریض ہیں، اس کے باوجود وہ تیزی سے صحت یاب ہوگئے ۔ ڈاکٹرس نے تینوں کو دو ہفتوں تک ہوم کورنٹائن رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اس دوران وزیر داخلہ کے تمام اسٹاف ممبرس کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ واضح رہے کہ وزیر داخلہ کے سیکوریٹی عملہ کے پانچ ارکان کے علاوہ ان کے ڈرائیور اور اٹنڈر میں کورونا پازیٹیو پایا گیا تھا جس کے بعد وزیر داخلہ کا ٹسٹ پازیٹیو آیا۔ اسٹاف کے دیگر 40 ارکان کا بھی کورونا ٹسٹ کرایا گیا ہے ۔ ابتدائی علامات والے سیکوریٹی عملہ کو ہوم کورنٹائن رہنے کی ہدایت دی گئی ۔ اسی دوران وزیر داخلہ محمد محمود علی نے مکمل صحت یابی پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ان تمام افراد سے اظہار تشکر کیا جنہوں نے عاجلانہ صحت یابی کیلئے دعائیں کیں۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ ابتدائی علامات کے ساتھ ہی علاج کے لئے رجوع ہوں۔ بخار ، کھانسی اور سردی کو معمولی نہ سمجھیں، فوری علاج کی صورت میں کورونا سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ دودھ ، انڈا، ہلدی ، لہسن ، ادرک جیسی قدرتی اشیاء کا استعمال کریں تاکہ قوت مدافعت برقرار رہے اور وائرس کو حملہ کا موقع نہ ملے۔ وزیر داخلہ نے صحت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور فون پر عیادت کرنے کیلئے چیف منسٹر کے سی آر ، ریاستی وزراء کے ٹی آر ، ہریش راؤ ، ارکان پارلیمنٹ سنتوش کمار، کیشو راؤ ، سابق رکن پارلیمنٹ کے کویتا ، نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو ، گورنر سوندرا راجن سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے اپولو ہاسپٹل کے ڈاکٹر اور اسٹاف کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے موثر علاج اور نگہداشت کی ہے۔
