وزیر داخلہ محمود علی کی صدر جمعیۃ العلماء نلگنڈہ سے ملاقات

   

ٹی آر ایس امیدوار کی تائید کی اپیل، مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کا تیقن
حیدرآباد۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی ناگرجنا ساگر کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں ہالیہ میونسپلٹی میں رائے دہندوں اور سماج کے مختلف طبقات سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ ناگرجنا ساگر میں ٹی آر ایس امیدوار کی تائید کیلئے وزیر داخلہ نے دارالعلوم نلگنڈہ پہنچ کر صدر جمعیۃ العلماء نلگنڈہ مولانا شاہ سید احسان الدین قاسمی سے ملاقات کی۔ مولانا احسان الدین قاسمی نے وزیر داخلہ کی شالپوشی کی۔ اس موقع پر مفتی نلگنڈہ مولانا سید صدیق محی الدین اور دیگر علماء نے وزیر داخلہ سے مسلمانوں کے مختلف مسائل پر بات چیت کی۔ وزیر داخلہ نے مکمل یکسوئی کے ساتھ سماعت کی اور علمائے کرام کو تیقن دیا کہ حکومت تمام مسائل کا حل تلاش کرے گی۔ محمود علی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے انتخابات میں ٹی آر ایس کی تائید کی اپیل کی۔ اس موقع پر مولانا اکبر خاں، مولانا زبیر محی الدین، مولانا عبید اللہ بیگ، مولانا عبدالواحد، حافظ محمد فرقان اور مقامی قائدین موجود تھے۔ اسی دوران وزیر داخلہ نے چھتیس گڑھ میں نکسلائیٹس کے حملہ میں 22 سیکورٹی جوانوں کی موت پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نکسلیوں نے پولیس پارٹی کو گھیر کر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں 22 جوان شہید ہوئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکورٹی فورسیس عوام کی حفاظت و سلامتی کیلئے محنت کررہی ہے لیکن نکسلی انہیں نشانہ بنارہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے بیدا پورہ موضع کے سرپنچ وجئے بھاسکر ریڈی کے دیہانت پر ان کی قیامگاہ پہنچ کر خراج پیش کیا۔ محمود علی نے نعش پر پھول چڑھائے اور پسماندگان کو پرسہ دیا۔