قاضی پیٹ میں کوچ فیکٹری کے قیام اور دیگر وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 26ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی نے وزیر ریلویز پیوش گوئل کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ سے کیئے گئے وعدوں کی تکمیل کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن آج تک اس وعدے کی تکمیل نہیں کی گئی۔ ریونت ریڈی نے اپنے حلقہ انتخاب ملکاجگری میں زیر التوا ریلوے پراجیکٹس کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ریلویز سے مربوط 21 معاملات ایسے ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ء تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ کے لیے ریلوے کوچ فیکٹری کا تیقن دیا گیا تھا۔ اس کے لیے قاضی پیٹ کی نشاندہی کی گئی۔ فیکٹری کے قیام سے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکتھل اور وقار آباد کے درمیان براہِ کوڑنگل گرین فیلڈ ریلوے لائین کی تجویز ہے۔ متحدہ محبوب نگر ضلع میں جو کافی پسماندہ ہے، نئی ریلوے لائین سے علاقے کی ترقی میں مدد ملے گی۔ ریاستی حکومت نے اس ریلوے لائین کے لیے اپنی حصہ داری ادا کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الوال، ملکاجگیری، بولارم ریلوے اسٹیشنوں پر بعض پیسنجر اور ایکسپریس ٹرینیں توقف کرتی ہیں تاہم یہ تینوں اسٹیشنوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔ انہوں نے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بولارم، واجپائی نگر، میاں پور، میڑچل چیک پوسٹ روڈ اور اس سے متصل علاقوں میں روڈ اوور بریجس کی سخت ضرورت ہے۔ ریونت ریڈی نے اجنتا، نظام آباد، دیواگری اور کرشنا ایکسپریس ٹرینوں کو میڑچل اسٹیشن پر توقف دیئے جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے آندھراپردیش کے دارالحکومت امراوتی اور حیدرآباد کے درمیان ہائی اسپیڈ ریلوے لائین کی تجویز پر فوری عمل آوری کی خواہش کی۔ انہوں نے ریلوے ملازمین کے بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے مولاعلی علاقے میں کالج کے قیام کی اپیل کی۔ انہوں نے ریلوے ملازمین کے لیے خصوصی ہائوزنگ سوسائٹی کے قیام کی تجویز پیش کی۔ ریونت ریڈی نے 21 نکاتی مکتوب میں اپنے حلقہ انتخاب میں زیر التوا کاموں کی تفصیلات پیش کیں۔