وزیر زراعت کا اضافہ سے دستبرداری کا مطالبہ

   

چھتیس گڑھ کی کیمیائی کھاد کی قیمت میں اضافے کے بعد فیصلہ

رائے پور۔ چھتیس گڑھ کے وزیر زراعت رویندر چوبے نے کیمیائی کھاد ، خاص طور پر ڈی اے پی کی قیمتوں میں فی بوری لگ بھگ 700 روپے کااضافہ کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر برائے کیمیکلز اور کھاد کے اس وزیر سے کھاد کمپنیوں کی اس من مانی اور بے تحاشہ قیمتوں پر رول گانے کی درخواست کی۔ مسٹر چوبے نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ ربیع سیزن میں ڈی اے پی کاشتکاروں کو 1200 روپے فی بوری کے حساب سے دستیاب کرایا گیا تھا جبکہ خریف سیزن میں اس کی قیمت بڑھ کر 1900 روپے فی بوری کردی گئی ہے ۔انہوں نے کہ کہا کہ گزشتہ ایک برس سے کورونا کی وبا کی وجہ سے عام عوام کے ساتھ ساتھ کسان بھی پریشان ہیں ، اس صورتحال میں ڈی اے پی سمیت کیمیائی کھاد کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کاشتکاروں کو دوہری مارپڑے گی اور وہ خریف سیزن کے لئے کھاد خریدنے میں بے بس ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی کھاد ڈی اے پی کی قیمت میں اچانک تقریباً 58 فیصد اضافے نے کاشتکاروں کو حیرت زدہ کردیا ہے ، اسی طرح کیمیائی کھاد این پی کے کی قیمت میں بھی فی بوری 565 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ، اب یہ کھاد کسانوں کو 1185 روپے فی بوری کی جگہ 1747 روپے فی بوری خریدنی ہوگی۔ سنگل سپر فاس فیٹ کی سبھی طرح کی کھادوں کی قیمت میں تقریباً 36 روپے فی بوری اضافہ ہوا ہے ۔ کیمیائی کھاد ایم اوپی کی قیمت میں بھی فی بوری 150 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس کی قیمت 850 روپے فی بوری سے بڑھا کر 1000 روپے فی بوری کردی گئی ہے ۔مسٹر چوبے نے کہا کہ ایسی صورتحال میں چھتیس گڑھ سمیت ملک کے کسانوں کے سامنے ایک بہت بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے کاشتکاری کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مرکزی حکومت سے کاشتکاروں کو راحت فراہم کرنے کے لئے کھاد کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لینے کی اپیل کی ہے ۔