بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے 12.2 لاکھ کروڑ روپے مختص‘ 10 اہم اعلانات
نئی دہلی ۔یکم ؍ فروری ( ایجنسیز )وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مالی سال 2026.27 کا مرکزی بجٹ پیش کیا۔ یہ ان کی مسلسل نویں بجٹ تقریر تھی۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں اصلاحات، سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ’ترقی یافتہ ہندوستان‘ کے نشانہ پر توجہ دی گئی ہے۔ بجٹ تقریر اور دستاویز میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں سے متعلق متعدد اعلانات شامل ہیں۔بنیادی ڈھانچے کیلئے 12.2 لاکھ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔وزیرِ خزانہ کے مطابق حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے 12.2 لاکھ کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ ہے اور اس کا مقصد سڑکوں، پلوں، بجلی اور دیگر منصوبوں کے کام میں تیزی لانا ہے۔ دفاعی بجٹ میں اضافہ‘بجٹ میں دفاعی وزارت کے لیے 7.8 لاکھ کروڑ روپے مختص کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس رقم کا ایک بڑا حصہ سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ دفاعی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ سات ہائی اسپیڈ ریلوے کوریڈورز کا تذکرہ‘ریلوے کے شعبے میں حکومت نے سات نئے ہائی اسپیڈ ریلوے کوریڈورز کی تعمیر کی تجویز دی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق دہلی–وارانسی، ممبئی–پونے اور پونے–حیدرآباد جیسے اہم روٹس اس میں شامل ہیں۔ ریلوے حفاظت کے نظام ‘‘کوچ’’ کو وسعت دینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔لڑکیوں کے لیے ہاسٹل‘نرملا سیتا رامن نیخواتین کی تعلیم سے متعلق بجٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہر ضلع میں کم از کم ایک گرلز ہاسٹل بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد طالبات کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ تعلیم کے لیے ڈیجیٹل نالج گرڈ:بجٹ میں طلبہ کے لیے ‘‘ڈیسٹینیشن ڈیجیٹل نالج گرڈ’’ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر معیاری تعلیمی مواد دستیاب کرایا جائے گا۔ صحت: ادویات پر ڈیوٹی میں کمی:وزیرِ خزانہ کے مطابق کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کی ادویات پر درآمدی ڈیوٹی اور بعض ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجی شعبے کے تعاون سے پانچ نئے علاقائی طبی مراکز اور تین نئے ایمس بنانے کی بات بجٹ میں شامل ہے۔ سیمی کنڈکٹر مشن 2.0:ٹیکنالوجی کے شعبے میں حکومت نے ‘‘سیمی کنڈکٹر مشن 2.0’’ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے 40 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس سے مقامی الیکٹرانکس اور چِپ ڈیزائن کو فروغ ملے گا۔ زراعت کے لیے کثیر لسانی اے آئی ٹول:زرعی شعبے کے لیے ‘‘بھارت وستار’’ نامی کثیر لسانی اے آئی ٹول شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق یہ ٹول کسانوں کو فصل، موسم اور منڈی کی قیمتوں سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔ ٹیکس سے متعلق اعلانات بجٹ میں بیرونِ ملک تعلیم، طبی علاج اور ٹور پیکج پر عائد ٹیکس کلیکٹڈ ایٹ سورس کو 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نظرثانی شدہ انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخ 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 مارچ کر دی گئی ہے۔ تاہم انکم ٹیکس سلیب میں کسی تبدیلی کی بات نہیں کی گئی۔ ایم ایس ایم ای اور ماحولیات:ایم ایس ایم ای شعبے کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے کے ایس ایم ای گروتھ فنڈ کی تجویز دی گئی ہے۔ ماحولیات کے لیے ‘‘کاربن جذب اور استعمال کی اسکیم’’ کے تحت 20 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں 20 نئی قومی آبی گزرگاہیں شروع کرنے کی بات کہی گئی ہے۔آخر میں وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 7 فیصد رکھا ہے اور 16ویں مالیاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز اور ریاستوں کے درمیان وسائل کی تقسیم سے متعلق نکات بیان کیے ہیں۔
بجٹ 2026 : کیا سستا ہوا اور کیا مہنگا؟
نئی دہلی ۔یکم؍ فروری ( ایجنسیز )مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج یکم فروری بروز اتوار مالی سال 2026.27 کیلئے ملک کا عام بجٹ پیش کیا۔ 2026 کے مرکزی بجٹ میں کینسر کی 17 ادویات کے ساتھ ساتھ بیٹری اور طیاروں کے ایندھن پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ غیر ملکی سفر، تعلیم اور طبی اخراجات کیلئے بھی ٹی سی ایس کی شرحیں کم کر دی گئی ہیں۔ غیر ملکی شہریوں کو بھی ہندوستان سے باہر کی آمدنی پر ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔حکومت کے بجٹ اعلانات سے جہاں کچھ چیزوں کی قیمتیں کم ہوں گی وہیں شراب اور دیگر اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ اپنی بجٹ تقریر میں سیتا رمن نے کہا کہ کھیلوں کے سامان سستے ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس (شوگر) اور کینسر کی دوائیں بھی سستی ہو جائیں گی۔
کیاہوگا سستا ؟
l کینسر کی 17 دوائیں سستی ہو جائیں گی۔
lچمڑے کے سامان سستی ہو جائیں گے۔
lموبائل فون اور ای وی بیٹریاں سستی ہو جائیں گی۔
lمائیکرو ویو اوون سستے ہو جائیں گے۔
l سولر پینل سستے ہو جائیں گے۔
l غیر ملکی سیاحتی پیکجز سستے: ٹی سی ایس کی شرح کم کر کے 2% کر دی گئی۔
l بیرون ملک تعلیم سستی: ایل آر ایس کے تحت تعلیمی اخراجات پر ٹی ڈی ایس کم لگے گا۔
l الکوہلک لکر اسکریپ اور بعض معدنیات پر ڈیوٹی پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد کر دی گئی۔
l جوتوں کے اوپر کی برآمدات پر ڈیوٹی فری امپورٹ کی اجازت ۔
l انرجی ٹرانزیشن کے آلات پر بنیادی کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ
l سولر گلاس کے اجزاء پر بی سی ڈی کی چھوٹ
l اہم معدنیات کیلئے کیپٹل گڈز پر بی سی ڈی کی چھوٹ
l سویلین جہازوں کی تیاری کے اجزاء اور پرزوں پر بی سی ڈی کی چھوٹ
l ذاتی استعمال کیلئے درآمدات پر بی سی ڈی 20 سے کم ہوکر10 فیصد ۔
l ہندوستانی ماہی گیروں کی پکڑی گئی مچھلیوں کو درآمدات پر بی سی ڈی کی چھوٹ
l نیوکلیئر پاور پراجکٹس کیلئے درآمد شدہ سامان پر بی سی ڈی کی چھوٹ۔
کیا ہو گامہنگا ؟
l شراب مزید مہنگی ہو جائے گی۔
l صنعتی سامان، خصوصی مشینری اور پرزہ جات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
l سگریٹ، پان مسالہ اور دیگر تمباکو مصنوعات پرایکسائز ڈیوٹی اور ہیلتھ سیس میں اضافہ کر دیا گیا۔
l انکم ٹیکس کی غلط رپورٹنگ پر ٹیکس کی رقم کے 100% کے برابر جرمانہ۔
l اسٹاک آپشنز اور فیوچر ٹریڈنگ پر سیکیورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس 0.02% سے بڑھا کر 0.05% کر دیا گیا۔
l حکومت بجٹ میں ڈیوٹی فری درآمد کی حد کو 3% تک بڑھا کر برآمد کنندگان کے لیے پیداواری لاگت کو کم کر رہی ہے، جس سے ہندوستانی سمندری غذا اور ٹیکسٹائل کو عالمی سطح پر فروغ دینے میں مدد اورراحت ملے گی۔
l درآمدی چمڑے سے تیار کردہ حتمی مصنوعات برآمد کرنے کی آخری تاریخ چھ ماہ سے بڑھا کر ایک سال کر دی گئی ہے جس سے ٹینرز اور مینوفیکچررز کو ریلیف ملے گی۔موبائل فونز کے علاوہ، تیار شدہ سامان پر ڈیوٹی زیادہ رکھ کر مقامی ویلیو ایڈیشن پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے جب کہ ملکی پیداوار لائنوں کیلئے سرمائے کے آلات پر بوجھ کو کم کیا گیا ہے۔
l کھیلوں کے سامان زیادہ سستے ہوں گے۔
l سرمایہ جاتی خرچ کو بڑھا کر 12.2 لاکھ کروڑ کر دیا ہے۔ تیز رفتار ریل، مائیکرو، اسمال اور میڈم صنعتوں، سیمی کنڈکٹرز، بائیو فارماسیوٹیکل اور میڈیکل ٹورازم جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔