اسد اویسی اور ارکان اسمبلی کی ملاقات اور یادداشت پیش
حیدرآباد۔/17 نومبر، ( سیاست نیوز) مجلس اتحادالمسلمین کے ایک وفد نے کمشنر پولیس حیدرآباد انجنی کمار سے ملاقات کی اور اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق صدر نشین وسیم رضوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جس نے متنازعہ کتاب تحریر کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ صدر مجلس اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ کے ہمراہ فلور لیڈر اکبر اویسی، ارکان مقننہ ممتاز احمد خاں، احمد پاشاہ قادری، محمد معظم خاں، احمد بلعلہ، کوثر محی الدین، جعفر حسین معراج، امین الحسن جعفری اور ریاض الحسن آفندی نے کمشنر پولیس کو یادداشت پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ ملعون وسیم رضوی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا ہے۔ مجلسی قائدین نے کتاب کے بعض اقتباسات کمشنر پولیس کے حوالے کئے اور کہا کہ وسیم رضوی نے مسلمانان ہند کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے وسیم رضوی کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 153A ، 153B، 295A ، 504
اور 505(1)(c)
کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کمشنر پولیس انجنی کمار نے مجلسی قائدین کو تیقن دیا کہ وسیم رضوی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسد اویسی نے کہا کہ وسیم رضوی نے اپنی کتاب میں جھوٹ اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ کمشنر پولیس کو فوری اس کے خلاف کریمنل کیس درج کرتے ہوئے گرفتار کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم رضوی دراصل اسلام اور مسلمان مخالف طاقتوں کا آلہ کار ہے جو چاہتے ہیں کہ اس طرح کی کتابوں کے ذریعہ مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک بھر میں وسیم رضوی کے خلاف مقدمات درج کرائیں۔ر