وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ میں سرمایہ نکاسی کو روکنے جگن موہن ریڈی کی اپیل

   


وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب، پلانٹ کے احیاء میں مرکز سے تعاون کا پیشکش

حیدرآباد۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ کی سرمایہ نکاسی منصوبہ کا از سر نو جائزہ لیں۔ انہوں نے وزیر اعظم کو روانہ کردہ مکتوب میں تیقن دیا کہ اسٹیل پلانٹ کے احیاء کیلئے آندھرا پردیش حکومت مرکزی حکومت کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیار ہے۔ آندھرا پردیش کے عوام کو اسٹیل پلانٹ سے محروم رکھنے کی انہوں نے مخالفت کی۔ مرکزی حکومت کی کابینی کمیٹی برائے معاشی اُمور نے راشٹریہ اسپات نگم لمیٹیڈ وشاکھاپٹنم میں 100 فیصد سرمایہ نکاسی کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے اسٹیل پلانٹ کو خانگیانے کی تجویز پیش کی ہے۔ مرکز کے اس فیصلہ سے تلنگانہ میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے۔ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ راشٹریہ اسپات نگم لمیٹیڈ دراصل وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ کی شناخت ہے۔ ریاست میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا پراجکٹ ہے جس سے 20 ہزار افراد راست طور پر روزگار حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ بیشتر کو بالواسطہ طور پر روزگار حاصل ہوتا ہے۔ کنسٹرکشن انفراسٹرکچر، مینو فیکچرنگ اور آٹو موبائیل سیکٹر کیلئے درکار اشیاء اس پراجکٹ میں تیار کی جاتی ہیں۔ جگن موہن ریڈی نے کہا کہ عوام کی کئی قربانیوں کے نتیجہ میں یہ پراجکٹ قائم کیا گیا تھا۔ 17 اپریل 1970 کو اسوقت کے وزیر اعظم نے ایک دہا طویل جدوجہد کے بعد پراجکٹ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2002 سے 2015 تک پراجکٹ نے بہتر کارکردگی انجام دی ہے اور خاطر خواہ منافع بھی حاصل ہوا۔ کمپنی کے تحت 19700 ایکر اراضی موجود ہے جس کی مالیت ایک لاکھ کروڑ روپئے سے زیادہ ہے۔ انہوں نے پراجکٹ کی بحالی کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے ہر ممکن مساعی اور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ پراجکٹ کے نقصانات کی پابجائی کیلئے مرکز اور ریاست کو مشترکہ مساعی کرنی چاہیئے۔