رامچندر کو ڈرامہ بازی کے بجائے بنیادی مسائل پر بات کرنے کا مشورہ ، کے ٹی آر کا ردعمل
حیدرآباد۔ وشاکھا اسٹیل پلانٹ مسئلہ پر سوال اٹھانے پر اعتراض کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اس بات کا جواب دیں کہ آیا آندھرا پردیش ملک کا حصہ ہے یا نہیں!ریاستی وزیر مسٹر کے ٹی راماراؤنے آج وشاکھا اسٹیل پلانٹ کے معاملہ میں ان کی جانب سے سوال کئے جانے پر اعتراض کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کے ٹی راما راؤ آندھرا پردیش کے لئے کام کر رہے ہیں انہیں جان لینا چاہئے کہ آندھرا پردیش بھی ہندستان کا ہی حصہ ہے اور وہ ہر اس پالیسی کے خلاف ہیں جو کہ ملازمین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والی ہے۔انہو ںنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ ملک کی ان سرفہرست ریاستوں میں شامل ہے جو کہ ریاستی حکومت کے ملازمین کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کئے بغیر انہیں ترقی کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔مسٹر کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے سال گذشتہ کے دوران 38ہزار ملازمین کو ترقی دی گئی ہے اور ان کی قابلیت کے مطابق ان کی خدمات حاصل کی جار ہی ہیں۔انہوں نے ریاست میںوکلاء کے لئے مختص کردہ ویلفیر فنڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے 100 کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے وکلاء کی فلاح و بہبود کے اقدامات کو یقینی بنانے میں اہم پیشرفت کی ہے۔انہو ںنے وشاکھا اسٹیل پلانٹ کی فروخت پر مرکز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری کمپنیوں کو فروخت کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور وہ اس لئے آج وشاکھا اسٹیل پلانٹ کے ملازمین کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ اگر کل مرکزی حکومت کی جانب سے سنگارینی اور بی ایچ ای ایل کی فروخت کی کوشش کی جاتی ہے تو ہمارے پڑوسی ہمارے ساتھ کھڑے رہ سکیں۔انہوں نے استفسار کیا کہ اگر آج ہم وشاکھا کیلئے کھڑے نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں کل ہمارے لئے کون کھڑا ہوگا!این رامچندر کو ڈرامہ کے بجائے بنیادی مسائل پر بات کرنے کا ریاستی وزیر و کارگذار صدر تلنگانہ راشٹر سمیتی نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ حقائق کو تسلیم کریں۔