وطن سے محبت کیا ڈی پی لگانے سے ہوتی ہے: مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کا وزیر اعظم مودی پر طنز

   

نئی دہلی: ہر گھر میں ترنگا مہم کو لے کر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اس پورے معاملے پر پی ایم مودی اور آر ایس ایس کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 1947 میں آر ایس ایس کے ماؤتھ پیس آرگنائزر میگزین نے ایک مضمون میں کہا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ترنگا ہمارا قومی پرچم نہیں بلکہ بھگوا پرچم ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آرگنائزر نے خود اگست 1947 میں اپنے شمارے میں کہا تھا کہ ترنگے کے تین رنگ ناشائستہ ہیں اور ان کا نفسیاتی اثر ہے۔ ہم پی ایم مودی اور آر ایس ایس سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ اس سے متفق ہیں۔بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی والے ترنگے کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ جو لوگ اسے نہیں لہرائیں گے ان کی وفاداری پر شک کیا جائے گا۔ ہم یہ پوچھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آرگنائزر میگزین کے اس مضمون کے بارے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کیا کہیں گے۔ کیا آپ ڈی پی لگا کر ملک سے پیار کرتے ہیں؟ 15 اگست کے بعد جھنڈا نکل جائےگا تو کیا محبت چلی جائےگی؟ فطری محبت ہونی چاہیے۔