کے سی آر نے سرکاری خزانہ خالی کردیا۔ ریاست 5 لاکھ کروڑ روپئے کی مقروض
حیدرآباد 14 ڈسمبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے استفسار کیاکہ وہ کانگریس پارٹی کے وعدوں پر عمل آوری کے لئے فنڈس اٹلی سے لائیں گے یا اے آئی سی سی آفس سے لائیں گے، اس کی وضاحت کریں۔ عبوری اسپیکر سے حلف نہ لینے کا اعلان کرنے والے بی جے پی کے 8 ارکان اسمبلی آج اسمبلی پہونچے۔ اسپیکر اسمبلی بی پرساد کمار نے انھیں اسمبلی رکنیت کا حلف دلایا جس کے بعد راجہ سنگھ بی جے پی کے دیگر ارکان اسمبلی کے ساتھ میڈیا پوائنٹ پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس حکومت کے خلاف بی جے پی کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ کانگریس پارٹی نے عوام سے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا ہے۔ ان وعدوں کو پورا کرنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے جاتے جاتے سرکاری خزانہ پوری طرح خالی کردیا ہے اور ریاست تلنگانہ کو 5 لاکھ کروڑ روپئے کا مقروض بنادیا ہے۔ پہلے کی فلاحی اسکیمات کو برقرار رکھتے ہوئے کانگریس کے وعدوں پر عمل آوری کے لئے فنڈس نہیں ہیں۔ اب چیف منسٹر اے ریونت ریڈی عوام سے وضاحت کریں کہ وہ ان وعدوں کی تکمیل کے لئے فنڈس اٹلی سے لائیں گے یا پھر اے آئی سی سی آفس سے لائیں گے۔ راجہ سنگھ نے کہاکہ ہم نے عبوری اسپیکر اکبرالدین اویسی کے ہاتھ پر اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہ لینے کا اعلان کیا تھا اُس پر قائم ہیں۔ عوام سے کئے گئے وعدہ کو پورا کیا ہے۔ بی جے پی نے کانگریس حکومت کے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے جس کو آخر تک لیجائیں گے۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے حکومت پر دباؤ بنائیں گے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی اے مہیشور ریڈی نے کہاکہ بی جے پی اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی۔ عوامی مسائل کو ایوان میں موضوع بحث بناتے ہوئے ان کی یکسوئی کے لئے ذمہ دارانہ رول ادا کرے گی۔ کانگریس پارٹی نے اقتدار حاصل ہوتے ہی پرگتی بھون کو اسٹڈی سرکل میں تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا جس سے منحرف ہوگئی ہے۔ رعیتو بندھو اسکیم میں کٹوتی کرنے کی سخت مذمت کی۔ ن