مسلم گرلز اسوسی ایشن کا یوم القرآن سے سرکردہ خواتین کا خطاب
حیدرآباد۔ 8 مارچ (راست) قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جس میں علم، حکمت، ہدایت، دانائی Wisdom کی باتیں ہیں۔ یہ کتاب وعظ و نصیحت بھی ہے اور شفاء و ذکر بھی ہے اور الفرقان بھی ہے۔ حق و باطل میں فرق کرنے والی ہے۔ اس کتاب میں قصص بیان کئے گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اسماء زہرہ صدر آل انڈیا مسلم ویمن اسوسی ایشن نے مسلم گرلز اسوسی ایشن و ایموا حیدرآباد کی جانب سے ویٹس گارڈن فنکشن ہال، شانتی نگرمیں منعقدہ خصوصی ’یوم القرآن پروگرام‘‘ میں 7 مارچ 2026، ہفتہ کے دن، خواتین و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر رفیق النساء نے قرآن اور تعمیر سیرت کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم تعمیر سیرت کے لئے جن خوبیوں کو اپنانے کا حکم دیتا ہے اس میں سچائی، امانتداری، دیانتداری، وفائے عہد، عدل و انصاف، صلہ رحمی، صبر و تحمل، عفو و درگذر، غصہ کو پی جانے اور کمزوروں و بیکسوں کی مدد، یتیم و یسیر کے ساتھ شفقت سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ جھوٹ، بدی، گمراہی، کینہ، کپٹ، حسد، جلن، بغض و عداوت، نفرت و دشمنی جیسے برے عادتوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ محترمہ شمیم فاطمہ نے دعوت قرآن پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دعوت دین کا کام ہر زمانہ اور ہر دور میں بہت ضروری ہے۔ دعوت دین و دعوت الی اللہ عام انسانوں کو اللہ کے متعین دین کی طرف دعوت دینے کا دوسرا نام ہے اور یہ اس کی ہدایت کی پیروی ہے اور ربانی منہج کو کرہ ارض پر قائم کرنا ہے اور یہ صرف اللہ کے لئے عبادت، استعانت اور اطاعت ہے اور دراصل برأت اور علیحدگی ہے۔ محترمہ رشیدہ حاتون نے تفاسیر قرآن کے عنوان پر کہا کہ قرآن کریم ایک عظیم الشان کتاب بر حق ہے۔ اس کو سیکھنا، سکھانا، پڑھنا، پڑھانا اور سمجھنا اور سمجھانا یہ ہر مسلمان پر لازم و ملزوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کو جہاں ناضرہ کے ساتھ پڑھنا ہے، وہیں ترجمہ اور تفسیر و تشریح کے ساتھ پڑھنا بھی اتناہی ضروری ہے۔ڈاکٹر روبینہ نے تدوین قرآن عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے، جو آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اور قیامت تک اب کوئی اور کتاب نازل نہ ہوگی۔ یہ زندگی کا وہی دستور کہن ہے جو ہمارے آبائے اولین کو ملا تھا۔ اس میں اصولا اسی کا اعادہ اورعہد کی تجدید ہے۔ محترمہ سیدہ صوفیہ نے قرآن کامل طریقہ زندگی پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم ایک زندہ وجاوید کتاب ہے، جب ہم پورے شعور کے ساتھ اس کی اسٹڈی کرتے ہیں تو ہمیں پیدائش سے لے کر موت تک ہر معاملے میں اس سے رہبری ملتی ہے۔ قرآن کریم میں عقائد، احکامات، معاملات، معاشرت، اخلاق و آداب، حلال و حرام، جائز و ناجائز، سماجی زندگی، معاشی زندگی اور سیاسی و تہذیبی زندگی کے اصول وضوابط دیئے گئے ہیں۔ قرآن کریم ہم مسلمانوں کو اللہ کی فرمانبرداری کے ساتھ ساتھ اپنے رشتہ داروں و دیگر لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ محترمہ تہنیت اطر نے قرآن اور اتحاد ملت کے عنوان پر قرآن آیات و احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ امت کا اتحاد ہر زمانے کی ضرورت رہی، جس کی تاکید قرآن و سنت میں آئی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے ایک طرف عبادت کا حکم دیا وہیں دوسری طرف فریضہ اسلام میں بتایا کہ امت متحد ہوکر رہے۔ ڈاکٹر سیما انجم نے قرآن اور مارڈن سائنس پر، محترمہ رقیہ فرزانہ، رکن عاملہ نے قرآن اور عقیدہ توحید پر مخاطب کیا اور محترمہ تفہیم آرا نے درس قرآن اور قاریہ ذکریہ قمر نے قرأت کلام پیش کیا۔ اسکولس و کالجس کی طالبات کے ساتھ ساتھ دانشور خواتین اور مختلف علاقوں و مقامات سے سینکڑوں خواتین و طالبات اس اہم پروگرام میں شریک تھیں۔