آغا پورہ کے ایک قبرستان کے تحفظ کیلئے مقامی افراد کی مساعی
حیدرآباد۔ آغا پورہ اور بھوئی گوڑہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوام کی کثیر تعداد نے آج وقف بورڈ کے دفتر واقع حج ہاوز پر دھرنا منظم کیا اور اوقافی جائیدادوں کی فروخت کے سلسلہ میں بعض افراد کی کوششوں کی مذمت کی۔ احتجاجی وقف بورڈ کے تساہل اور لاپرواہی پر سخت برہمی کا اظہار کررہے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ درگاہ حضرت سردار بیگ ؒ کی اراضی کو فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں بورڈ کے بعض ارکان کی سرپرستی میں ایک مقامی شخص کو تعمیر کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اوقافی اراضی پر تعمیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور بورڈ کی جانب سے اس طرح کے کسی فیصلہ کی صورت میں درگاہ کی دیگر اراضی فروخت ہوجائے گی۔ مقامی افراد نے اس سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر عبدالحمید کے نام یادداشت حوالے کی۔ انہوں نے وقف بورڈ کے عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر بورڈ کی جانب سے مقامی غیر مجاز قابض کو تعمیر کی اجازت دی گئی تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عہدیداروں اور بعض ارکان کی ملی بھگت کے ذریعہ تلنگانہ میں اہم اوقافی جائیدادیں تباہ و تاراج ہورہی ہیں۔ وقف بورڈ کے قیام کا مقصد جائیدادوں اور اراضیات کا تحفظ کرنا ہے ایسے میں اگر خود وقف بورڈ اراضیات کی فروخت میں مدد کرے تو حکومت کو چاہیئے کہ وہ وقف بورڈ کو تحلیل کردے۔ مقامی افراد نے کافی دیر تک دھرنا منظم کیا تاہم کورونا تحدیدات کے سبب انہیں عہدیداروں سے ملاقات کیلئے دفتر میں داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ وقف بورڈ میں ایک سازش کے ذریعہ مقامی شخص کو تعمیر کی اجازت دینے کے حق میں قرارداد منظور کی گئی اور پروسیڈنگ اجرائی کے مرحلہ میں ہے۔ انہوں نے پروسیڈنگ کی اجرائی کی صورت میں مقامی افراد کی جانب سے احتجاج میں شدت کا انتباہ دیا۔