وقف بل کو کانگریس ایم پی محمد جاوید کا سپریم کورٹ میں چیلنج

,

   

lکانگریس پارٹی بھی قانون سازی کو چیلنج کرے گی
lحیدرآباد ایم پی اسد اویسی بھی عدالت عظمیٰ سے رجوع

نئی دہلی: وقف ترمیمی بل 2025 ء کے تعلق سے قانونی اور سیاسی کشاکش سپریم کورٹ پہنچ چکی ہے جیسا کہ اس بل کے دستور ی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے کانگریس ایم پی محمد جاوید کی جانب سے عدالت عظمیٰ سے رجوع ہونے کے بعد سربراہ اے آئی ایم آئی ایم اسد الدین اویسی نے اس اقدام کی تقلید کی ہے ۔ دونوں قائدین کا دعویٰ ہے کہ مجوزہ ترامیم مسلمانوں کے دستوری حقوق کو چھیننے اور اسلامی مذہبی اوقاف پر امتیازانہ حکومتی کنٹرول متعارف کرانے کے مترادف ہے ۔ یہ عرضیاں ایڈوکیٹ انس تنویر کے ذریعہ داخل کی گئی جبکہ اس بل کو ابھی صدارتی منظور ی حاصل نہیں ہوئی ہے ۔ یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوان لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں شدید مخالفت کے درمیان منظور کیا جاچکا ہے ۔ قبل ازیں کانگریس نے کہا کہ اسے یہ بل منظور نہیں۔ ملک کی سب سے پرانی پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گی اور اس کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرے گی۔ پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعہ اس بارے میں اطلاع دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے اور ہم مودی حکومت کی جانب سے ہندوستانی آئین میں درج اصولوں، دفعات اور روایات پر کیے گئے تمام حملوں کی مخالفت کرتے رہیں گے۔اس دوران جئے رام رمیش نے یہ بھی ذکر کیا کہ کانگریس شہریت (ترمیمی) قانون 2019 کو پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کر چکی ہے۔
اس کے علاوہ، کانگریس نے 2019 میں آر ٹی آئی ایکٹ 2005 میں کی گئی ترامیم کو بھی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس نے انتخابی ضابطہ (2024) میں کی گئی ترامیم کی قانونی حیثیت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔جئے رام رمیش نے یہ بھی بتایا کہ کانگریس نے 1991 کے عبادت گاہوں کے تحفظ ایکٹ کی روح اور شقوں کو برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ میں مداخلت کی ہے۔ اس بل کو جمعرات کے روز لوک سبھا نے منظور کیا تھا، جس کے بعد اسے راجیہ سبھا سے بھی منظوری مل گئی۔اس سے قبل راجیہ سبھا میں قائد حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے وقف بل کو مسلمانوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ بل اقلیتوں کو تباہ کرنے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ کھرگے نے کہا کہ ملک میں ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ یہ بل اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔ساتھ ہی، انہوں نے وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ اس بل کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں اور حکومت اسے واپس لے لے۔جس کی لاٹھی، اس کی بھینس کی پالیسی درست نہیں ہے اور یہ کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں ہوگا۔