شاہنواز قاسم کی رخصت کے سبب کوئی متبادل انتظام نہیں کیا گیا، اعلیٰ عہدیداروں کی بے حسی
حیدرآباد۔14 ۔اکتوبر (سیاست نیوز) اقلیتی اداروں کی کارکردگی سے اعلیٰ عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ مستقل عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں اقلیتی اداروں کی اسکیمات عملاً ٹھپ ہوچکی ہیں لیکن اعلیٰ عہدیداروں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ گزشتہ 22 ستمبر سے وقف بورڈ اور میناریٹیز اسٹڈی سرکل پر کوئی عہدیدار نہیں ہے جس کے نتیجہ میں دونوں اداروں کا کام کاج بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم آئی پی ایس 22 ستمبر سے ایک ماہ کی ٹریننگ پر ہیں جس کے بعد سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے تین عہدوں کی اضافی ذمہ داری اپنے پاس رکھی ہے۔ شاہنواز قاسم 22 اکتوبر کو رخصت سے واپس ہوں گے ، اس وقت تک ڈائرکٹوریٹ ، وقف بورڈ اور اسٹڈی سرکل کی کارکردگی متاثر رہے گی۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے علاوہ شاہنواز قاسم وقف بورڈ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر اور اسٹڈی سرکل کے ڈائرکٹر ہیں۔ اسکیمات پر عمل آوری کی نگرانی اور محکمہ فینانس سے بجٹ کا حصول ڈائرکٹوریٹ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ شاہنواز قاسم کی رخصت پر روانگی کے بعد سے وقف بورڈ کا کام ٹھپ ہوچکا ہے اور اطلاعات کے متعلق احمد ندیم نے انچارج کے طورپر وقف بورڈ کی ایک بھی فائل کی یکسوئی نہیں کی ہے۔ وقف بورڈ میں روزانہ کئی درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو بروقت فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ اقلیتی طلبہ کو سیول سرویس کوچنگ کی فراہمی اسٹڈی سرکل کے تحت ہے۔ شاہنواز قاسم کی رخصت کے نتیجہ میں اسکریننگ ٹسٹ کے نتائج کی اجرائی میں نہ صرف تاخیر ہوئی بلکہ ابھی تک منتخب امیدواروں کی کونسلنگ نہیں ہوسکی۔ ایک طرف وقف بورڈ تو دوسری طرف اسٹڈی سرکل کی کارکردگی متاثر ہونے کا سکریٹری اقلیتی بہبود پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور جو حضور آباد کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں ، انہیں اقلیتی بہبود کے امور سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اقلیتی بہبود کے بجٹ کے خرچ اور اسکیمات پر عمل آوری کے لئے ہر ادارہ پر مستقل عہدیداروں کا تقرر کیا جانا چاہئے ۔ ر