وقف بورڈ سے طلاق اور خلع کے سرٹیفکٹس کی اجرائی بحال

   

…سیاست کی خبر کا اثر…
وقف بورڈ سے طلاق اور خلع کے سرٹیفکٹس کی اجرائی بحال
صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کا جائزہ اجلاس، یکطرفہ طور پر اجرائی بند کرنے پر ناراضگی
حیدرآباد۔7 ۔ اکتوبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ نے طلاق اور خلع کے سرٹیفکٹس کی اجرائی کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے عہدیداروں کے اجلاس میں ہدایات جاری کی۔ وقف بورڈ کی جانب سے سرٹیفکٹس کی اجرائی روک دینے سے متعلق روزنامہ سیاست میں خبر کی اشاعت کے فوری بعد محمد سلیم نے اجلاس طلب کیا۔ آخرکار 24 گھنٹے میں یہ معاملہ حل ہوگیا اور روزنامہ سیاست نے عوام کو دشواریوں کے بارے میں جو توجہ دلائی تھی، اس کا کامیاب حل دریافت ہوچکا ہے۔ وقف بورڈ نے حکومت کے احکامات کے بغیر ہی اپنے طور پر سرٹیفکٹس کی اجرائی روکنے کا فیصلہ کرلیا تھا جبکہ وقف کے امور میں کسی کو مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ طلاق اور خلع کے سرٹیفکٹس کی اجرائی روک دینے سے عوام کافی پریشان تھے اور قضاۃ سیکشن ان کی درخواستوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہا تھا ۔ تقریباً ایک ماہ سے جاری یہ تعطل روزنامہ سیاست کی پہل پر 24 گھنٹے میں ختم ہوگیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز کی جانب سے طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے بعد قضاۃ سیکشن نے طلاق ثلاثہ بل کے گزٹ پر مشتمل فائل تیار کی اور اسٹانڈنگ کونسل سے قانونی رائے طلب کی۔ کونسل نے اس سلسلہ میں کوئی رائے نہیں دی جس پر سیکشن نے اپنے طور پر سرٹیفکٹس کی اجرائی کو روک دیا تھا ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر عبدالحمید ، لاء سیکشن ، قضاۃ سیکشن اور دیگر متعلقہ عہدیداروں کا اجلاس طلب کیا ۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ متعلقہ فائل پر حکومت کی جانب سے احکامات کی عدم وصولی کا حوالہ دیتے ہوئے سرٹیفکٹس کی اجرائی کا آغاز کیا جائے۔ صدرنشین وقف بورڈ نے اپنے طور پر قضاۃ سیکشن کے فیصلہ پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس فیصلہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ، خلع ، نکاح اور تبدیلیٔ مذہب سے متعلق سرٹیفکٹس کی اجرائی وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے ۔ سرکاری محکمہ جات میں وقف بورڈ کے سرٹیفکٹ کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ کوئی بھی فیصلہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر اور صدرنشین سے مشاورت کے بغیر نہ کریں۔ اس سلسلہ میں اسٹانڈنگ کونسل سے بھی مشورہ کیا گیا جنہوں نے سرٹیفکٹس کی اجرائی جاری رکھنے کی صلاح دی۔ توقع ہے کہ دسہرہ کی تعطیلات کے فوری بعد قضاۃ سیکشن سے طلاق اور خلع کے سرٹیفکٹس کی اجرائی کا آغاز ہوجائے گا ۔