وقف بورڈ سے غریب مسلمانوں کی ترقی کے اقدامات کی تجویز

   

اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے اقدامات کی ستائش، چیف جسٹس تلنگانہ ہیما کوہلی سے محمد سلیم کی ملاقات
حیدرآباد۔ /7 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس ہیما کوہلی نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی کے ذریعہ مسلمانوں کی ترقی کے اقدامات کا مشورہ دیا اور کہا کہ وقف بورڈ کو حکومت کے تعاون سے مساعی کرنی چاہیئے۔ صدر نشین الحاج محمد سلیم نے آج چیف جسٹس سے خیرسگالی ملاقات کی اور بورڈ کی کارکردگی سے واقف کرایا۔ محمد سلیم نے بتایا کہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے حکومت کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ محکمہ رجسٹریشن میں اوقافی جائیدادوں و اراضیات کے رجسٹریشن کو روک دیا گیا ۔ بورڈ کی مساعی و چوکسی سے 500 سے زائد اوقافی جائیدادوں کے رجسٹریشن منسوخ کئے جاچکے ہیں۔ ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کی تعداد زیادہ ہے۔ غیر مجاز قبضوں کی برخاستگی کیلئے نہ صرف ایف آئی آر درج کی گئی بلکہ عدالتوں میں موثر پیروی کیلئے سینئر وکلاء کی خدمات حاصل کی گئیں۔ چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ شہر کی بعض جائیدادوں کو ترقی دینے کی تجویز کو حکومت کی منظوری ملی ہے۔ بورڈ کی آمدنی مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی پر خرچ کی جائیگی ۔ چیف جسٹس نے تجویز کی ستائش کی اور کہا کہ سماج کے کمزور طبقات کی بھلائی پر توجہ کی ضرورت ہے۔ محمد سلیم نے بتایا کہ کورونا اور لاک ڈاؤن میں بورڈ سے دو مرتبہ غریبوں میں اناج کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ اس کے علاوہ غریبوں کے علاج کیلئے امداد دی جاتی ہے۔ محمد سلیم نے اقلیتی بہبود کیلئے حکومت کی اسکیمات کی تفصیلات پیش کیں اور کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر اقلیتوں کی ترقی میں سنجیدہ ہیں۔