وقف بورڈ میں ’ اندھیر نگری ۔ چوپٹ راج ‘ جاری

   

Ferty9 Clinic

محکمہ اقلیتی بہبود کے غیر قانونی احکام پر عمل کیلئے ماتحت عملہ پر دباؤ ۔ تازہ احکام کی اجرائی ۔ بورڈ کی اہمیت ختم کرنے کی کوششیں

حیدرآباد 12 جنوری (سیاست نیوز) وقف جائیدادوں کی تباہی اور ایک عہدیدار کی غیر حاضری کے دور کی تنخواہوں کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کے غیر قانونی احکامات پر عمل کو یقینی بنانے وقف بورڈ عہدیدار اپنے ماتحتین پر دباؤ ڈال کر بورڈ کی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تلنگانہ وقف بورڈ کو محکمہ اقلیتی بہبود سے جاری غیر قانونی احکامات سے متعلق خبر شائع کرکے ’سیاست‘ نے 11جنوری کو انکشاف کیا تھا ۔ اس انکشاف کے بعد اب چیف اکزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ نے محکمہ اقلیتی بہبود کے میمو میں دی گئی ہدایات پر فوری عمل کویقینی بنانے نئے احکام جاری کئے ہیں اور صدرنشین وقف بورڈ کو ان احکامات کی نقل روانہ کرنے کے بجائے ان کے پی اے کو نقل روانہ کی گئی ہے۔ اس طرح محکمہ اقلیتی بہبود سے وقف بورڈ کے قانونی اور تنخواہوں سے متعلق امور کو چیف اکزیکٹیو آفیسر کے حوالہ کئے جانے کی ہدایات کا ناجائز فائدہ اٹھاکر سی ای او وقف بورڈ نے صدرنشین بورڈ کو واقف کروانے نقل روانہ کرنے کی بجائے ’انتظامی امور‘ بھی اپنے طور پر فیصلہ کرنے لگے ہیں۔ اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود بی شفیع اللہ نے سی ای او وقف بورڈ سے موصول مکتوب کی بنیاد پر 6 جنوری کو میمونمبر2973/Estt-II/2024 جاری کرکے بورڈ اور صدرنشین کے اختیارات کو محدود کرکے بورڈ کے اسسٹنٹ سیکریٹری کے ساتھ سی ای او کے مشترکہ دستخط کو منظوری دیتے ہوئے تنخواہوں کی اجرائی اور قانونی امور انجام دینے کا اختیار فراہم کیا تھا اور 7جنوری کو سی ای او نے ان اختیارات کو حاصل کرنے عجلت کا مظاہرہ کیا لیکن جب محکمہ اقلیتی بہبود کی غیر قانونی اور بیجا مداخلت سے متعلق خبر شائع ہوئی تو اس کے فوری بعد آج ایک اور حکم جاری کرکے سی ای او نے اپنے ماتحت اسسٹنٹ سیکریٹریز پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ فوری ان احکام پر عمل کو یقینی بنایا جائے ۔ چیف اکزیکٹیو آفیسر محمد اسداللہ نے 12 جنوری 2026 کو F.Mo.1/Peshi/CEO/TGWB/2026 سے نئی فائل شروع کرکے میمو جاری کیا جس میں سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کے غیر قانونی ’میمو‘ پر عمل آوری کیلئے دباؤ ڈالاجانے لگا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدرنشین وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی نے اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کے غیر قانونی میمو کے خلاف چیف سیکریٹری تلنگانہ ‘ خصوصی سیکریٹری برائے چیف منسٹر ریونت ریڈی ‘ وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین ‘ پرنسپل سیکریٹری محکمہ مال ‘ پرنسپل سیکریٹری محکمہ قانون کے علاوہ دیگر عہدیداروں کو مکتوب روانہ کیا ہے اور اسپیشل سیکریٹری کو مکتوب میں غیر قانونی ’میمو‘ سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بتایا گیا کہ محمد اسداللہ انچارج سی ای او وقف بورڈ کا عدالت کے احکامات کے بعد ان کے اپنے محکمہ ’محکمہ مال ‘ کو تبادلہ کردیا گیا تھا لیکن محمد اسداللہ نے ان احکام کے خلاف دوبارہ عدالت سے رجوع ہوکر وقف بورڈ میں اپنی برقراری کو یقینی بنانے احکامات حاصل کئے تھے لیکن جس مدت میں وہ وقف بورڈ کے سی ای او نہیں تھے اس کی تنخواہ اور ان کی جائے خدمات کے متعلق کسی کو علم نہیں ہے لیکن وہ اس مدت کی تنخواہ پانے کی کوشش کر رہے ہیں علاوہ ازیں وقف بورڈ کے شعبہ قانون کے امور کو بھی ان کے حوالہ کرنے پر کئی خدشات پیدا ہونے لگے ہیں کیونکہ اوقافی جائیدادوں سے متعلق عدالتوں میں زیر دوراں مقدمات میں جان بوجھ کر ناکامی کے کئی الزامات کا بورڈ کے عہدیدار سامنا کر رہے ہیں اور اگر محکمہ اقلیتی بہبود کے احکام پر عمل کیا جاتا ہے تو کئی موقوفہ جائیدادوں کے مقدمات میں شکست کا خدشہ ہے ۔ذرائع کے مطابق صدرنشین وقف بورڈ کے اختیارات کو محدود کرکے وقف بورڈ میں اپنی من مانی کی کوششوں کے خلاف بورڈ کے بیشتر اراکین نے ناراضگی کا اظہار کرکے کہا کہ حکومت یا محکمہ اقلیتی بہبود منتخبہ بورڈ کے اختیارات کو نہیں چھین سکتا ۔کرناٹک وقف بورڈ میں نئے قوانین کے باوجود بورڈ کی کارکردگی معمول کے مطابق جاری ہے لیکن تلنگانہ میں حکومت کی مداخلت اور بورڈ کے اجلاسوں میں رکاوٹ سے بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ہونے لگی ہے۔3