مکمل وقت ڈیوٹی پر حاضری سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ بہتری لانے کی کوششیں بھی بے اثر
حیدرآباد۔18جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی بے ڈھنگی چال میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے اور نہ بورڈ کے حالات میں کوئی تبدیلی آئی ہے ۔ تمام ریاستی ومرکزی دفاتر میں ملازمین اور عہدیداروں کیلئے وقت کا تعین ہوتا ہے کہ وہ صبح 10تا شام5بجے دفتر میں موجود رہیں لیکن وقف بورڈ میں کوئی ایسا عہدیدار یا ملازم نہیں جو وقت پر آئے اور مکمل وقت دفتر میں موجود رہے ۔ عہدیداروں اور ملازمین کی وقت کی پابندی نہ کئے جانے سے کئی زیر التواء امور سے متعلق فائل دفتری میزوں پر گھومتی رہتی ہیں اور ان پر کارروائی نہ ہونے کی وجہ عہدیداروں کی اپنے دفتر میں عدم موجودگی ہے ۔ وقف جائیدادوں کے تحفظ کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کے لاپرواہی والے رویہ پر استفسار پر کہا جا رہا ہے کہ سیکریٹری اقلیتی بہبود کے عہدہ پر چند یوم قبل تک جو عہدیدار موجود تھے انہیں ان امور سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور اب جناب سید عمر جلیل کو ذمہ داری تفویض کئے جانے کے بعد وہ وقف بورڈ کے معاملات کے متعلق فوری اقدامات سے گریز کررہے ہیں۔ وقف جائیدادوں کی تباہی کے متعلق روزانہ انکشافات کے متعلق وقف بورڈ میں برسر کار عہدیداروں کا کہناہے کہ جائیدادو ں پر قبضہ جات کیلئے وہ ذمہ دار نہیں ہیں جبکہ ایکٹ کے مطابق جائیدادوں کو نقصانات کیلئے نہ صرف بورڈ بلکہ خود عہدیداروں کو بھی جوابدہ ہونا پڑتا ہے ۔ صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان اپنے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد سے اب تک بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے متعدد اقدامات کرچکے ہیں لیکن انہیں عہدیداروں اور ملازمین کا تعاون حاصل نہ ہونے سے بورڈ کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور نہ کسی شعبہ کی کارکردگی میں بہتری ریکارڈ کی جا رہی ہے ۔ چیف ویجلنس آفیسر وقف بورڈ جناب سید خواجہ معین الدین کو انچارج چیف اکزیکیٹیو آفیسر کی زائد ذمہ داری تفویض کئے جانے کے بعد انہوں نے بھی لیگل و دیگر شعبہ جات میں برسر خدمت عہدیداروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرکے ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے اقدامات کئے لیکن انہیں بھی وقف بورڈ کے چند ملازمین کے علاوہ دیگر کا تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ میں دفتری امور ٹھپ ہوچکے ہیں ۔ زیر التواء فائیلوں ‘ مقدمات ‘ شکایات کے معاملہ میں کوئی کسی کو ذمہ دار تصور نہیں کر رہا ہے۔ صدرنشین و چیف اکزیکیٹیو آفیسر کے درمیان تال میل و اراکین بورڈ و صدرنشین کے درمیان بہترین تال میل سے بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جانا چاہئے تھا لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد وقف بورڈ کی جو صورتحال ہے اس کے نتیجہ میں وقف بورڈ سے دفتریت مکمل ختم ہوچکی ہے اور اس کو بحال کرنے فوری طور اقدامات نہ کئے جائیں تو تلنگانہ کی موقوفہ جائیدادیں تو برباد ہوجائیں گی بلکہ آئندہ چند برسوں میں وقف بورڈ کے پاس ملازمین کو دینے بھی تنخواہیں نہیں ہوں گی اسی لئے عہدیداروں اور ملازمین میں احساس جوابدہی پیدا کرنے فوری سخت گیر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اراکین بورڈ بالخصوص سینیئر ارکان کا احسا س ہے کہ بورڈ کے حالات میں بہتری اور سدھار کیلئے بدعنوانیوں کے خاتمہ کے ساتھ عوامی شکایات کی فوری یکسوئی کے اقدامات کو یقینی بنانے ذمہ داروں کو توجہ دینی چاہئے جبکہ ذمہ داران بورڈ کا کہناہے کہ بورڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے بڑے پیمانے پر تبادلوں پر ملازمین کو سیاسی قائدین و اراکین کی حمایت مل رہی ہے جس سے وہ وقف بورڈ میں دفتریت کو بحال کرنے سے قاصر ہیں۔ جاریہ سال ماہ فروری میںچیف اکزیکیٹیو آفیسر نے عہدیداروں اور ملازمین کو جوابدہ بنانے سخت اقدامات کرکے ان میں جوابدہی کا احساس پیدا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان احکام پر عمل کو زیر التواء رکھنے کا اندرون چند یوم فیصلہ کیا گیا اسی طرح اندرون بورڈ تبادلوں میں بھی مداخلتوں سے طویل مدت سے ایک ہی مقام پر خدمات انجام دینے والوں کے تبادلہ کے احکام جاری نہیں ہوپا رہے ہیں۔م