وقف بورڈ میں مستقل چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عدم تقرر پر ہائیکورٹ کی ناراضگی

   

جوابی حلفنامے کے بجائے 11 اکٹوبر تک وضاحت کرنے حکومت کو ہدایت
حیدرآباد 5 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ کے جسٹس ایم سدھیر کمار نے تلنگانہ وقف بورڈ میں مستقل چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر میں تاخیر پر ناراضگی جتائی۔ اس سلسلہ میں حکومت کو وضاحت کے لئے 11 اکٹوبر تک مہلت دی گئی ہے۔ جسٹس ایم سدھیر کمار نے ایک شہری کی جانب سے دائر کردہ رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران اِس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ سابق میں حکومت کو مستقل سی ای او کے تقرر کی ہدایت کے باوجود عارضی انتظامات کے تحت انچارج کا تقرر کیا گیا۔ درخواست گذار نے موجودہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے تقرر سے متعلق جی او کو چیلنج کیا جو جنوری 2003 ء میں جاری کیا گیا۔ عدالت سے جی او کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی گئی لیکن یہ وقف ایکٹ 1995 کے سیکشن 23 کی خلاف ورزی ہے۔ وقف بورڈ کی جانب سے اسٹانڈنگ کونسل نے عدالت سے درخواست کی کہ جوابی حلفنامہ داخل کرنے کیلئے 4 ہفتے کی مہلت دی جائے۔ جسٹس سدھیر کمار نے کہاکہ اس مسئلہ پر وہ پہلے ہی احکامات جاری کرچکے ہیں لہذا جوابی حلفنامہ کے ادخال کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کو تقرر میں تاخیر کی وضاحت کرنی چاہئے۔ سوشل ویلفیر ڈپارٹمنٹ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے عہدہ پر تقرر کے لئے عہدیدار دستیاب نہیں ہیں اور وہ رینک کے حامل عہدیدار وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار نہیں۔ عدالت نے اِن دلیلوں کو قبول کرنے سے انکار کیا اور کہاکہ یہ معاملہ توہین عدالت کا بن سکتا ہے۔ گورنر پلیڈر نے حکومت کی جانب سے وضاحت کے لئے وقت طلب کیا جس پر جسٹس سدھیر کمار نے آئندہ سماعت 11 اکٹوبر کو مقرر کرتے ہوئے اُس وقت تک مستقل عہدیدار کے تقرر کے اقدامات کی ہدایت دی۔