وقف بورڈ کی عدالت میں زیردوران مقدمات کی سنجیدگی مشتبہ

   


مؤثر پیروی نہ ہونے سے بورڈ کو شدید نقصان، رکن بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں اور لیگل سیل کے درمیان تال میل
حیدرآباد۔11۔ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی عدالت میں زیر دوراں مقدمات کے متعلق سنجیدگی مشتبہ ہونے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ وقف بورڈ کو جن مقدمات کا سامنا ہے ان مقدمات کی مؤثر پیروی نہ ہونے کے سبب آئندہ چند یوم کے دوران وقف بورڈ کو شدید نقصانات کا سامناکرنا پڑسکتا ہے ۔ وقف بورڈ کے لیگل سیل اور اس میں شامل وکلاء کی کارکردگی کے متعلق متعد دشکایات موصول ہونے کے باوجود بورڈ اور اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ حکومت کی خاموشی سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ بورڈ لیگل سیل کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور مقدمات کے مؤثر پیروی کے لئے اقدامات کے بجائے موجودہ وکلاء کے ذریعہ کام چلاؤ طریقہ کار اختیا رکئے ہوئے ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں کے مطابق لیگل سیل میں موجود ذمہ داروں کی کارکردگی کے سلسلہ میں متعدد شکایات کے باوجود کوئی کاروائی نہ کئے جانے کی وجہ سے اب بورڈ میں شامل افراد پر شبہات کا اظہار کیا جانے لگا ہے جبکہ اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ بورڈ میں شامل رکن ‘ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار اور لیگل سیل کے درمیان تال میل کے سبب تمام اطلاعات اور فریقین کے درمیان معاملتوں کا سلسلہ کہاں جاری ہے !بورڈ کے ایک ذمہ دار رکن نے بتایا کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کو مقدمات میں ہونے والی ناکامیوں کے سلسلہ میں مرکزی وقف کونسل سے استفسار کیا گیا ہے اور بذریعہ ای۔میل طلب کی گئی وضاحت کے سلسلہ میں وقف بورڈ کے عہدیداروں کی جانب سے کیا جواب دیا گیا وہ اب تک بورڈ کے روبرو پیش نہیں کیا گیا اسی طرح ریاستی وقف بورڈ کو حاصل اختیارات کو عہدیداروں کی جانب سے چیالنج کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ بورڈ کی کوئی وقعت نہیں ہے اور عہدیدار ہی سب کچھ ہیں جو کہ بورڈ کے لئے ناقابل قبول رویہ ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے ایک سینیئر رکن کے مطابق لیگل سیل کو کارکرد بنانے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں عہدیداروں کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں اب ناقابل برداشت ہوچکی ہیں ۔ م