وقف بورڈ کی 3 مخلوعہ نشستوں پر نامزدگی کی تیاریاں

   

Ferty9 Clinic

رکن پارلیمنٹ ، رکن اسمبلی اور بار کونسل زمرہ جات کی نشستیں مخلوعہ، نئے سی ای او کیلئے نئے چیلنجس
حیدرآباد۔/21جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے مستقل چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے تقرر کے بعد حکومت نے بورڈ میں ارکان کی مخلوعہ نشستوں کو پُر کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ بورڈ میں ارکان کی 3 نشستیں مخلوعہ ہیں جن میں رکن پارلیمنٹ، رکن اسمبلی اور رکن بار کونسل شامل ہیں۔ حکومت کو ان نشستوں پر نئے ارکان کا انتخاب کرنا ہے جس کے بعد ہی وقف بورڈ اپنی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز کرسکتا ہے اور بورڈ کے اجلاس طلب کئے جاسکتے ہیں۔ لوک سبھا اور پھر اسمبلی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب بورڈ کا اجلاس گزشتہ 5 ماہ سے منعقد نہیں ہوا۔ مستقل چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عدم تقرر کے نتیجہ میں کارکردگی متاثر ہوئی اور فائیلوں کی یکسوئی اور دیگر معاملات ٹھپ ہوچکے تھے۔ عدالت کی مداخلت کے بعد حکومت نے آخر کار آر ڈی او ظہیرآباد عبدالحمید کو مستقل چیف ایکزیکیٹو آفیسر مقرر کیا جس کی اطلاع عدالت کو دے دی گئی۔ عبدالحمید جو سابق میں وقف بورڈ اور حج کمیٹی میں فرائض انجام دے چکے ہیں دوبارہ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار نہیں تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ جوائنٹ کلکٹر کے عہدہ پر ترقی کی فہرست میں ہیں اگر وہ محکمہ مال میں اپنی خدمات جاری رکھتے تو ترقی کے امکانات روشن تھے لیکن حکومت نے ان پر دباؤ بناتے ہوئے وقف بورڈ کی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے راضی کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ 3 مخلوعہ نشستوں کو پُر کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے جلد ہی وقف بورڈ سے رپورٹ طلب کی جائے گی۔ رکن یارلیمنٹ کے زمرہ میں اسد اویسی کی رکنیت لوک سبھا کی تحلیل کے ساتھ ختم ہوگئی ہے جبکہ رکن اسمبلی کے زمرہ میں محمد معظم خاں کی رکنیت اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ختم ہوگئی تھی۔ بار کونسل زمرہ میں زیڈ ایچ جاوید کی رکنیت آندھرا پردیش بار کونسل کی تقسیم کے بعد ختم ہوئی۔ یہ تینوں دوبارہ اپنے عہدوں پر منتخب ہوئے تاہم انہیں وقف بورڈ کا رکن نامزد کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تلنگانہ بار کونسل میں اس مرتبہ 2 مسلمان منتخب ہوئے ہیں۔ وقف ایکٹ کے مطابق بورڈ میں اگر حکومت چاہے تو دونوں ایڈوکیٹس کو شامل کرسکتی ہے یا پھر دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بار کونسل کی نشست کیلئے دونوں ایڈوکیٹس بھی دعویدار بتائے جاتے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی کونسل کی رکنیت ختم ہوگئی لیکن حکومت انہیں صدر نشین کے عہدہ پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں ایڈوکیٹ جنرل سے رائے حاصل کی گئی۔ وقف ایکٹ میں صدرنشین کی میعاد کے بارے میں غیر واضح موقف ہے اور کونسل کی رکنیت ختم ہونے کے باوجود میعاد کی تکمیل کی گنجائش موجود ہے اسی کے تحت حکومت نے محمد سلیم کو صدرنشین کے عہدہ پر برقرار رکھا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانا اور جائیدادوں کا تحفظ عبدالحمید کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔