کئی مقدمات میں جوابی حلفنامہ داخل کرنے میں طویل تاخیر ۔ مقدمات میںشکست کی وجہ
حیدرآباد۔13۔ستمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈکے اسٹینڈنگ کونسل اور لاء ڈپارٹمنٹ سے عدالت میں دائر کئے جانے والے مقدمات میں فوری جوابی حلف نامہ داخل نہ کرنے کے سبب اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے ہیں ۔ وقف بورڈ لاء ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں اور وکلاء پر تحفظ اوقاف کے ذمہ داروں اور متولیان و کمیٹیوں کی جانب سے متعدد الزامات عائد کئے جانے لگے ہیں ۔ کہا جا رہاہے کہ وقف ٹریبونل کے علاوہ دیگر عدالتوں میں وقف بورڈ کی ملکیت کو چیالنج کرنے دائر مقدمات میں جوابی حلف نامہ داخل نہ کرنے سے حکومت کے گزٹ کو چیالنج کیا جانے لگا ہے اور عدالت میں وقف بورڈ کی مناسب پیروی نہ ہونے سے مقدمات میں وقف بورڈ کو شکست کے خدشات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق وقف بورڈ کی جانب سے وکلاء پر دباؤنہ بنائے جانے کے سبب سابقہ بورڈ میں بھی کئی اہم اراضیات بشمول منی کنڈہ جاگیر مقدمہ میں وقف بورڈ کو ناکامی ہوئی تھی اور عاشور خانہ علی سعدؒ کے مقدمہ میں بھی شکست ہوئی ۔ اب کئی جائیدادوں کے گزٹ کو قابضین کے چیالنج کا بروقت جواب نہ دینے سے مقدمات قانونی اعتبار سے کمزور ہونے لگے ہیں ۔ وقف بورڈ اور قابضین کے درمیان جاری مقدمات میں اگر کوئی تحفظ اوقاف کے سلسلہ میں کام کرنے والے تیسرے فریق موجود ہیں تو وہ ان میں دستاویزات پیش کر رہے ہیں لیکن وقف بورڈ کے وکلاء کی خاموشی مشتبہ ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سنجیدہ اقدامات اور ممکنہ حد تک قابضین کو برخواست کروانے ہدایات کے باوجود وقف بورڈ کے وکلاء کے متعلق شکایات ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے جو کہ مقدمات میں شکست کے باوجود ان کی حوصلہ افزائی کے مترادف ثابت ہورہا ہے ۔ وقف بورڈ وکلاء ‘ لاء ڈپارٹمنٹ عہدیداروںو ملازمین کی کارکردگی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات و مقدمات میں شکست کے علاوہ مختلف عدالتوں میں جاری مقدمات کے موقف پر وقف بورڈ سے طلب رپورٹ کے متعلق کہا جا رہاہے کہ اب تک عہدیداروں نے رپورٹ تیار نہیں کی لیکن بورڈ کے آئندہ اجلاس سے قبل اگر مقدمات کے موقف اور ان کی تفصیلات کے متعلق رپورٹ پیش نہیں کی جاتی ہے تو صدرنشین جناب محمد مسیح اللہ خان اور اراکین بورڈ سے سخت موقف کا امکان ہے۔م