وقف بورڈ کے امور میں حکومت کی مداخلت کے خلاف قرارداد منظور

   

متولیوں کا تقرر بورڈ کا اختیار، قبرستانوں کیلئے 125 ایکر اراضی پر حکومت سے اظہار تشکر، وقف بورڈ کے اجلاس میں 140 امور کی یکسوئی

حیدرآباد۔/27 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے امور میں حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مداخلت کے خلاف بورڈ کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی۔ تلنگانہ وقف بورڈ کا اجلاس صدرنشین محمد مسیح اللہ خاں کی صدارت میں آج حج ہاوز میں منعقد ہوا۔ حالیہ عرصہ میں درگاہ حضرات یوسفین ؒ اور درگاہ حضرت امر اللہ شاہؒ کے متولیوں کے بارے میں وقف بورڈ کے فیصلوں کی نفی کرتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر ارکان نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ وقف ایکٹ 1995 اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے کئی فیصلوں کے مطابق ریاستی حکومت کو بورڈ کے روز مرہ کے امور میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وقف ایکٹ1995 کے سیکشن 32 کے تحت بورڈ کو متولیوں کے تقرر اور برخواستگی کے مکمل اختیارات حاصل ہیں اس کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور ترقی وقف بورڈ کے اختیارات میں شامل ہے۔ قرارداد میں درگاہ حضرات یوسفینؒ کے متولی کے تقرر سے متعلق بورڈ کے احکامات کو برقرار رکھتے ہوئے اس سلسلہ میں چیف ایگزیکیٹو آفیسر کی جانب سے سکریٹری اقلیتی بہبود کو 21 ستمبر کو روانہ کردہ مکتوب کی توثیق کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ نے درگاہ حضرت امراللہ شاہؒ کے متولی کے خلاف کارروائی کے سکریٹری اقلیتی بہبود کے احکامات پر بھی اعتراض کیا۔ بورڈکا ماننا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود کو وقف بورڈ کے امور میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ اسی دوران بورڈ کے تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہے اجلاس میں ایجنڈہ کے 140 امور کی یکسوئی کی گئی۔ حکومت کی جانب سے شہر کے مضافاتی علاقوں میں مسلم قبرستانوں کیلئے حال ہی میں منظورہ 125 ایکر اراضی کو رجسٹرڈ وقف قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اراضی کے الاٹمنٹ پر بورڈ نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اظہار تشکرکیا۔ حکومت نے مسلمانوں کے مختلف طبقات کے قبرستانوں کیلئے 5 علحدہ مقامات پر جملہ 125 ایکر اراضی الاٹ کی ہے۔ بورڈ نے 140 ایجنڈہ امور کی یکسوئی کی جن میں مختلف مساجد کی منیجنگ کمیٹیوں کی تشکیل، متولیوں کے تقررات، اوقافی جائیدادوں کی ترقی کیلئے تعمیری اجازت نامے اور دیگر امور کی یکسوئی کی گئی۔ اجلاس میں بورڈ کے ارکان مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری، کوثر محی الدین، ذاکر حسین جاوید، ڈاکٹر نثار حسین حیدر آغا، ابوالفتح بندگی بادشاہ، ملک معتصم خاں کے علاوہ چیف ایگزیکیٹو آفیسر خواجہ معین الدین نے شرکت کی۔