وقف بورڈ کے ایک ملازم کی کورونا سے موت کے بعدحج ہاوز میں سنسنی

   

کئی ملازمین بیماری کے سبب رخصت پر،عمارت میںموجود دیگر دفاتر کے ملازمین پریشان

حیدرآباد۔ تلنگانہ وقف بورڈ کا ایک ملازم کورونا سے فوت ہونے کے بعد دیگر ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک ریٹائرڈ عہدیدار جن کی خدمات دوبارہ حاصل کی گئی تھیں وہ کورونا سے متاثر ہوگئے اور پرانے شہر میں مقامی جماعت کے ہاسپٹل میں علاج کے دوران آج جانبر نہ ہوسکے۔ انتقال کی اطلاع عام ہوتے ہی وقف بورڈ کے دیگر ملازمین میں بے چینی پھیل گئی اور کئی ملازمین نے رخصت حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس سے قبل بھی وقف بورڈ کے بعض ملازمین کورونا سے متاثر ہوئے اور ایک ملازم فوت ہوئے جس کے بعد کئی ملازمین نے طویل رخصت حاصل کرلی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے بعض دیگر ملازمین طبیعت خراب ہونے پر طویل رخصت پر ہیں تاہم ان کے مرض کو راز میں رکھا گیا ہے۔ اگر یہ کورونا کا شکار ہیں تو پھر ان کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کو کورنٹائن ہونا پڑے گا۔ جو سابق ملازم آج کورونا سے فوت ہوئے وہ علالت سے قبل تک بھی باقاعدہ خدمات انجام دیتے رہے اور صدرنشین کے چیمبر میں ان کی تعیناتی تھی۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے دیگر ملازمین کو ہوم کورنٹائن ہونے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ حج ہاوز کی عمارت کو سینٹائز کرنے کے بجائے سابق میں صرف بعض شعبوں کو سینٹائز کیا گیا تھا۔ اب جبکہ ایک اور شخص کی موت واقع ہوئی لہذا ملازمین ساری عمارت کو سینٹائز کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حج ہاوز کی عمارت میں موجود دیگر دفاتر کے ملازمین اور عہدیداروں میں بھی کورونا کا خوف پایا جاتا ہے ۔ اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن، حج کمیٹی کے علاوہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کے دفاتر بھی حج ہاوز میں موجود ہیں۔ شہر میں کورونا کے کیسس میں اضافہ کے باوجود حج ہاوز میں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں۔